الفتح الربانی
كتاب الصلاة— نماز کی کتاب
بَابُ تَأْخِيرِ الصَّلُوةِ لِعُذْرِ الاشْتِغَالِ بِحَرْبِ الْكُفَّارِ وَنَسْخِ ذَلِكَ بِصَلُوةِ الْخَوْفِ وَالتَّرْتِيبِ فِي قَضَاءِ الْفَوَائِتِ وَالْآذَانِ وَالْإِقَامَةِ لِلْأُولَى وَالْإِقَامَةِ فَقَطْ لِكُلِّ فَائِتَةٍ بَعْدَهَا باب: کافروں کے ساتھ لڑائی کی مصروفیت کی وجہ سے نماز کو مؤخر کرنے، نمازِ خوف کی وجہ سے اس رخصت کے منسوخ ہو جانے، فوت شدہ نمازوں کو بالترتیب ادا کرنے، پہلی نماز کے لیے اذان اور اقامت کہنے اور باقی ہر فوت شدہ نماز کے لیے صرف اقامت کہنے کا بیان
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ (أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: حُبِسْنَا يَوْمَ الْخَنْدَقِ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى كَانَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ هَوِيًّا وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ فِي الْقِتَالِ مَا نَزَلَ (وَفِي رِوَايَةٍ) وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ صَلَاةُ الْخَوْفِ {فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًا} فَلَمَّا كُفِينَا الْقِتَالَ وَذَلِكَ قَوْلُهُ: {وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ وَكَانَ اللَّهُ قَوِيًّا عَزِيزًا} أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا فَأَقَامَ الظُّهْرَ فَصَلَّاهَا كَمَا يُصَلَّى فِي وَقْتِهَا، ثُمَّ أَقَامَ الْعَصْرَ فَصَلَّاهَا كَمَا يُصَلَّى فِي وَقْتِهَا ثُمَّ أَقَامَ الْمَغْرِبَ فَصَلَّاهَا كَمَا يُصَلَّى فِي وَقْتِهَاسیدنا ابو سعید خدریؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہمیں غزوۂ خندق والے دن نماز سے روک دیا گیا، یہاں تک کہ مغرب سے بھی کچھ بعد کا وقت ہو گیا، لیکن یہ چیز لڑائی کے بارے میں مخصوص حکم کے نازل ہونے سے پہلے کی ہے، ایک روایت میں ہے: یہ نمازِ خوف کا حکم نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے، یہ حکم {فَرِجَالًا أَوْ رُکْبَانًا} میں بیان کیا گیا ہے، پس جب ہمیں قتال سے کفایت کیا گیا، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اور اس جنگ میں اللہ تعالیٰ خود ہی مومنوں کو کافی ہو گیا، اللہ تعالیٰ بڑی قوتوں والا اور غالب ہے۔ بہرحال نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ خندق والے اُس دن سیدنا بلالؓ کو حکم دیا، انھوں نے ظہر کے لیے اقامت کہی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ نماز ایسے ہی پڑھائی، جیسے اپنے وقت پر پڑھاتے تھے، پھر عصر کی اقامت ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ نماز اسی طرح پڑھائی، جیسے اس کے وقت میں پڑھاتے تھے، پھر مغرب کی اقامت ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ نماز اسی طرح پڑھائی، جیسے اس کے وقت پر پڑھاتے تھے۔