الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الْفَصْلُ الثَّالِثُ فِي بَعْثِ عَلِيٌّ عَمَّارًا وَالْحَسَن رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْا لِاسْتِنْفَارِ أَهْلِ الْكُوفَةِ باب: فصل سوم: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا سیدنا عمار اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہما کو اہل کوفہ کی طرف بھیجنا، تاکہ وہ ان سے لڑائی میں شریک ہونے کا مطالبہ کریں
حدیث نمبر: 12339
عَنِ الْحَكَمِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ قَالَ لَمَّا بَعَثَ عَلِيٌّ عَمَّارًا وَالْحَسَنَ إِلَى الْكُوفَةِ لِيَسْتَنْفِرَاهُمْ فَخَطَبَ عَمَّارٌ فَقَالَ إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّهَا زَوْجَتُهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَلَكِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ابْتَلَاكُمْ لِتَتَّبِعُوهُ أَوْ إِيَّاهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو وائل سے مروی ہے کہ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہما کو کوفہ کی طرف روانہ کیا تاکہ وہ لوگوں کو لڑائی کے لیے نکلنے پر آمادہ کریں، تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور کہا: میں جانتا ہوں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا دنیا و آخرت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس موقع پر آزمایا ہے کہ تم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ساتھ دیتے ہو یا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا۔