الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الْفَضْلُ الثَّانِي فِي قُدُومٍ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى الْبَصْرَةِ واسْتَنْفَارِ أَهْلِهَا لِمَوْقِعَةِ الْجَمَل باب: فصل دوم: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بصرہ میں تشریف آوری اور لوگوں کو جنگ جمل کے لیے بلانا
حدیث نمبر: 12338
عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ قَالَ قُلْتُ لِعَلِيٍّ أَرَأَيْتَ مَسِيرَكَ هَذَا عَهْدًا عَهِدَهُ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمْ رَأْيًا رَأَيْتَهُ قَالَ مَا تُرِيدُ إِلَى هَذَا قُلْتُ دِينَنَا دِينَنَا قَالَ مَا عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيهِ شَيْئًا وَلَكِنْ رَأْيًا رَأَيْتُهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
قیس بن عبادسے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سید نا علی رضی اللہ عنہ سے گزارش کی کہ آپ جس راہ پر چل رہے ہیں، اس بارے میں آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے کوئی حکم ہوا تھا یا یہ آپ کی اپنی رائے ہے؟ انہوں نے کہا: تمہیں اس سے کیا؟ میں نے کہا:ہمارا دین ہے، یہ ہمارے دین کی بات ہے، یہ ایسی ویسی چیز نہیں ہے، انہوں نے کہا: اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کچھ نہیں فرمایا، بس یہ میری اپنی رائے ہے۔