الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الفَضْلُ الأَوَّلُ فِي خُرُوجِ عَائِشَةَ وَمَا أَخْبَرَ بِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي ذلِكَ باب: فصل اول: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا نکلنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا س کے معلق پیشن گوئی کرنا
حدیث نمبر: 12336
وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ فَقَالَ أَوْصَانِي خَلِيلِي وَابْنُ عَمِّكِ يَعْنِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”سَتَكُونُ فِتَنٌ وَفُرْقَةٌ فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَاكْسِرْ سَيْفَكَ وَاتَّخِذْ سَيْفًا مِنْ خَشَبٍ“ فَقَدْ وَقَعَتِ الْفِتْنَةُ وَالْفُرْقَةُ وَكَسَرْتُ سَيْفِي وَاتَّخَذْتُ سَيْفًا مِنْ خَشَبٍ وَأَمَرَ أَهْلَهُ حِينَ ثَقُلَ أَنْ يُكَفِّنُوهُ وَلَا يُلْبِسُوهُ قَمِيصًا قَالَ فَأَلْبَسْنَاهُ قَمِيصًا فَأَصْبَحْنَا وَالْقَمِيصُ عَلَى الْمِشْجَبِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند) سیدنا اہبان رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے خلیل اور آپ کے چچا زاد یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے وصیت کرتے ہوئے فرمایا تھا: عنقریب فتنے اور اختلافات رونما ہوں گے، جب ایسے حالات پیدا ہوجائیں تو اپنی تلوار توڑ کر لکڑی کی تلوار بنا لینا۔ اور جب میرے والد زیاد ہ بیمار ہوئے تو انہوں نے اپنے اہل خانہ کو حکم دیا کہ جب وہ ان کو کفن دیں تو قمیص نہ پہنائیں، لیکن ہم نے انہیں قمیص پہنا دی، جب صبح ہوئی تو ہم نے دیکھا کہ وہ قمیص کھونٹی پر لٹکی ہوئی تھی۔