حدیث نمبر: 12334
عَنْ ابْنَةٍ لِأُهْبَانَ بْنِ صَيْفِيٍّ عَنْ أَبِيهَا وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ أَنَّ عَلِيًّا لَمَّا قَدِمَ الْبَصْرَةَ بَعَثَ إِلَيْهِ فَقَالَ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَتْبَعَنِي فَقَالَ أَوْصَانِي خَلِيلِي وَابْنُ عَمِّكَ فَقَالَ ”إِنَّهُ سَيَكُونُ فُرْقَةٌ وَاخْتِلَافٌ فَاكْسِرْ سَيْفَكَ وَاتَّخِذْ سَيْفًا مِنْ خَشَبٍ وَاقْعُدْ فِي بَيْتِكَ حَتَّى تَأْتِيَكَ يَدٌ خَاطِئَةٌ أَوْ مَنِيَّةٌ قَاضِيَةٌ“ فَفَعَلْتُ مَا أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِنِ اسْتَطَعْتَ يَا عَلِيُّ أَنْ لَا تَكُونَ تِلْكَ الْيَدَ الْخَاطِئَةَ فَافْعَلْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا اہبان بن صیفی رضی اللہ عنہ ، جو کہ صحابی ہیں، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:سیدنا علی رضی اللہ عنہ جب بصرہ میں تشریف لائے تو انہوں نے مجھے بلوا بھیجا اور کہا: میرے ساتھ چلنے میں تمہیں کیا مانع ہے ؟ میں نے کہا : مجھے میرے خلیل اور آپ کے چچا زاد یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وصیت فرمائی تھی کہ : عنقریب لوگوں میں فتنہ و اختلاف برپا ہو گا ، اس موقع پر تم اپنی تلوار توڑ کر لکڑی کی ایک تلوار بنا لینا اور الگ تھلک ہو کر اپنے گھر میں بیٹھے رہنا ، یہاں تک کہ کوئی ظالم ہاتھ یا موت تم تک پہنچ جائے ۔ لہذا میں نے تو وہی کام کیا ، جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا تھا ، اے علی ! اگر تم طاقت رکھتے ہو کہ وہ ظالم خطا کار ہاتھ نہ بنو تو تم ایسا ضرور کرو ۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12334
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن بطرقه وشواھده، اخرجه ابن ماجه: 3960، والترمذي: 2203 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27200 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27742»