الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الفَضْلُ الأَوَّلُ فِي خُرُوجِ عَائِشَةَ وَمَا أَخْبَرَ بِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي ذلِكَ باب: فصل اول: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا نکلنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا س کے معلق پیشن گوئی کرنا
عَنْ ابْنَةٍ لِأُهْبَانَ بْنِ صَيْفِيٍّ عَنْ أَبِيهَا وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ أَنَّ عَلِيًّا لَمَّا قَدِمَ الْبَصْرَةَ بَعَثَ إِلَيْهِ فَقَالَ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَتْبَعَنِي فَقَالَ أَوْصَانِي خَلِيلِي وَابْنُ عَمِّكَ فَقَالَ ”إِنَّهُ سَيَكُونُ فُرْقَةٌ وَاخْتِلَافٌ فَاكْسِرْ سَيْفَكَ وَاتَّخِذْ سَيْفًا مِنْ خَشَبٍ وَاقْعُدْ فِي بَيْتِكَ حَتَّى تَأْتِيَكَ يَدٌ خَاطِئَةٌ أَوْ مَنِيَّةٌ قَاضِيَةٌ“ فَفَعَلْتُ مَا أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِنِ اسْتَطَعْتَ يَا عَلِيُّ أَنْ لَا تَكُونَ تِلْكَ الْيَدَ الْخَاطِئَةَ فَافْعَلْسیدنا اہبان بن صیفی رضی اللہ عنہ ، جو کہ صحابی ہیں، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:سیدنا علی رضی اللہ عنہ جب بصرہ میں تشریف لائے تو انہوں نے مجھے بلوا بھیجا اور کہا: میرے ساتھ چلنے میں تمہیں کیا مانع ہے ؟ میں نے کہا : مجھے میرے خلیل اور آپ کے چچا زاد یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وصیت فرمائی تھی کہ : عنقریب لوگوں میں فتنہ و اختلاف برپا ہو گا ، اس موقع پر تم اپنی تلوار توڑ کر لکڑی کی ایک تلوار بنا لینا اور الگ تھلک ہو کر اپنے گھر میں بیٹھے رہنا ، یہاں تک کہ کوئی ظالم ہاتھ یا موت تم تک پہنچ جائے ۔ لہذا میں نے تو وہی کام کیا ، جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا تھا ، اے علی ! اگر تم طاقت رکھتے ہو کہ وہ ظالم خطا کار ہاتھ نہ بنو تو تم ایسا ضرور کرو ۔