الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الْبَابُ الثَّالِثُ ذِكْرُ شَيْءٍ مِنْ خُطْبِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سوم: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بعض خطبات کا بیان
عَنْ أَبِي رَافِعٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ”إِنَّهُ سَيَكُونُ بَيْنَكَ وَبَيْنَ عَائِشَةَ أَمْرٌ“ قَالَ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”نَعَمْ“ قَالَ أَنَا قَالَ ”نَعَمْ“ قَالَ فَأَنَا أَشْقَاهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”لَا وَلَكِنْ إِذَا كَانَ ذَلِكَ فَارْدُدْهَا إِلَى مَأْمَنِهَا“سیدنا ابو رافع سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: عنقریب تمہارے اورعائشہ رضی اللہ عنہا کے مابین جھگڑا ہو گا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ انھوں نے پھر کہا: اللہ کے رسول! کیا میں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! تب تو میں سب سے بڑھ کر بد نصیب ہوں گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، یہ بات نہیں ہے، بس جب ایسی صورت حال پیدا ہوجائے تو عائشہ کو اس کی امن گاہ تک پہنچا دینا۔