الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الْبَابُ الثَّالِثُ ذِكْرُ شَيْءٍ مِنْ خُطْبِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سوم: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بعض خطبات کا بیان
عَنْ حَبَّةَ الْعُرَنِيِّ قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ضَحِكَ عَلَى الْمِنْبَرِ لَمْ أَرَهُ ضَحِكَ ضَحِكًا أَكْثَرَ مِنْهُ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ثُمَّ قَالَ ذَكَرْتُ قَوْلَ أَبِي طَالِبٍ ظَهَرَ عَلَيْنَا أَبُو طَالِبٍ وَأَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نُصَلِّي بِبَطْنِ نَخْلَةَ فَقَالَ مَاذَا تَصْنَعَانِ يَا ابْنَ أَخِي فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْإِسْلَامِ فَقَالَ مَا بِالَّذِي تَصْنَعَانِ بَأْسٌ أَوْ بِالَّذِي تَقُولَانِ بَأْسٌ وَلَكِنْ وَاللَّهِ لَا تَعْلُونِي إِسْتِي أَبَدًا وَضَحِكَ تَعَجُّبًا لِقَوْلِ أَبِيهِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ لَا أَعْتَرِفُ أَنَّ عَبْدًا لَكَ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ عَبَدَكَ قَبْلِي غَيْرَ نَبِيِّكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ لَقَدْ صَلَّيْتُ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ النَّاسُ سَبْعًاحبہ عرنی کہتے ہیں: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ منبر پر خوب ہنسے، میں نے ان کو کبھی بھی اتنا ہنستے ہوئے نہیں دیکھا تھا، آپ اس قدر زور سے ہنسے کہ آپ کی داڑھیں نمایاں ہوگئیں اور پھر کہا: مجھے ابو طالب کی بات یاد آئی ہے، میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ وادیٔ نخلہ میں نماز ادا کر رہا تھا کہ ابو طالب آگئے، انہوں نے کہا:بھتیجے! تم دونوں کیا کر رہے ہو؟ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اسلام کی دعوت دی، اس نے کہا: تم جو کام کر رہے ہو، اس میں کوئی حرج نہیں، لیکن اللہ کی قسم! میری دبر مجھ سے اونچی کبھی نہ ہوگی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنے والد کی اس بات پر تعجب کرتے ہوئے ہنسے تھے، اس کے بعد انہوں نے کہا: یا اللہ میں نہیں جانتا کہ اس امت میں تیرے نبی کے سوا مجھ سے قبل تیرے کسی بندے نے تیری عبادت کی ہو، یہ بات انہوں نے تین مرتبہ دہرائی، لوگوں کے نماز پڑھنے سے بہت پہلے میں نے نمازیں پڑھی ہیں، یہ بات آپ نے سات مرتبہ دہرائی۔1
! یا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کے نماز پڑھنے سے پہلے میں نے سات دن نماز پڑھی ہے اس کے بعد دیگر لوگ مسلمان ہوئے ہیں۔ (عبداللہ رفیق)