الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الْفَضْلُ السَّابِعُ فِي مَحَبَّةِ الشَّيْعَةِ لَهُ وَبُغْضِ الْخَوَارِجِ إِيَّاهُ باب: فصل ہفتم: شیعہ لو گوں کاسیدنا علی رضی اللہ عنہ سے محبت کرنا اور خارجی لوگوں کا ان سے بغض رکھنا
حدیث نمبر: 12326
عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ قَالَ قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ إِنَّ الشِّيعَةَ يَزْعُمُونَ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَرْجِعُ قَالَ كَذَبَ أُولَئِكَ الْكَذَّابُونَ لَوْ عَلِمْنَا ذَاكَ مَا تَزَوَّجَ نِسَاؤُهُ وَلَا قَسَمْنَا مِيرَاثَهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عاصم بن ضمرہ کہتے ہیں:میں نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے کہا: شیعہ لوگوں کا خیال ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ دوبارہ واپس تشریف لائیں گے، انہوں نے کہا: یہ لوگ جھوٹے ہیں،جھوٹی باتیں کرتے ہیں، اگر یہ بات ہمارے علم میں ہوتی تو سیدنا علی کی ازواج شادی نہ کرتیں اور نہ ہم ان کی میراث کو تقسیم کرتے۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب کی روایات تو ضعیف ہے، لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ کئی شیعہ نے ان سے محبت کا اظہار کرنے میں غلوّ سے کام لیا اور وہ شرعی حد سے تجاوز کر گئے اور اپنی کئی خود ساختہ بدعات کے لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کی آل کو آڑ بنا لیا۔
اور خوارج اس قدر مخالف ہو گئے کہ انھوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دائرۂ اسلام سے خارج قرار دیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور خوارج کی آپس میں جنگیںہونے لگ گئیں، دیکھیں حدیث نمبر (۱۲۸۲۲) اور اس کے بعد والی احادیث اور ابواب۔
اور خوارج اس قدر مخالف ہو گئے کہ انھوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دائرۂ اسلام سے خارج قرار دیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور خوارج کی آپس میں جنگیںہونے لگ گئیں، دیکھیں حدیث نمبر (۱۲۸۲۲) اور اس کے بعد والی احادیث اور ابواب۔