الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الْفَضْلُ السَّابِعُ فِي مَحَبَّةِ الشَّيْعَةِ لَهُ وَبُغْضِ الْخَوَارِجِ إِيَّاهُ باب: فصل ہفتم: شیعہ لو گوں کاسیدنا علی رضی اللہ عنہ سے محبت کرنا اور خارجی لوگوں کا ان سے بغض رکھنا
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”إِنَّ فِيكَ مِنْ عِيسَى مَثَلًا أَبْغَضَتْهُ يَهُودُ حَتَّى بَهَتُوا أُمَّهُ وَأَحَبَّتْهُ النَّصَارَى حَتَّى أَنْزَلُوهُ بِالْمَنْزِلِ الَّذِي لَيْسَ بِهِ أَلَا وَإِنَّهُ يَهْلِكُ فِيَّ اثْنَانِ مُحِبٌّ يُقَرِّظُنِي بِمَا لَيْسَ فِيَّ وَمُبْغِضٌ يَحْمِلُهُ شَنَآنِي عَلَى أَنْ يَبْهَتَنِي أَلَا إِنِّي لَسْتُ بِنَبِيٍّ وَلَا يُوحَى إِلَيَّ وَلَكِنِّي أَعْمَلُ بِكِتَابِ اللَّهِ وَسُنَّةِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا اسْتَطَعْتُ فَمَا أَمَرْتُكُمْ مِنْ طَاعَةِ اللَّهِ فَحَقٌّ عَلَيْكُمْ طَاعَتِي فِيمَا أَحْبَبْتُمْ وَكَرِهْتُمْ“سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلا کر فرمایا: تم عیسیٰ علیہ السلام کے مشابہہ ہو، یہود کو ان سے اس قدر بغض تھاکہ انہوں نے ان کی والدہ پر بہتان لگادیا اور نصاریٰ نے ان سے اس قدر محبت کی کہ انہیں وہ درجہ دے دیا، جس پر وہ فائز نہیں تھے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: خبردار! دو قسم کے لوگ میری وجہ سے ہلاکت سے دوچار ہوں گے، ایک تو مجھ سے محبت کرنے والے، وہ فرط محبت میں میرے متعلق ایسی ایسی باتیں کریں گے، جو درحقیقت مجھ میں نہیں ہیں اور دوسرے مجھ سے بغض رکھنے والے، وہ میری مخالفت میں آکر مجھ پر الزامات لگانے سے بھی نہیں چوکیں گے، خبردار! میں نہ نبی ہوں اور نہ میری طرف وحی آتی ہے، البتہ میں اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت کے مطابق عمل کرنے کی حتی الامکان کوشش کرتا ہوں، پس میں جب تک تمہیں اللہ کی اطاعت کا حکم دوں تو تمہیں اچھا لگے یا نہ لگے اس بارے میں میرے حکم کی تعمیل تم پر لازم ہے۔