الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الْفَضْلُ السَّادِسُ فِي اخْتِيَارِهِ قَاضِيَا لِلْيَمَنِ وَإِنَّهُ أكْثَرُ الأُمَّةِ الْمُحَمَّدِيَّةِ عِلْمًا وَأَعْظَمُهُمْ حِلْمًا وَأَقْدَمُهُمْ سَلَمًا باب: فصل ششم: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یمن کا قاضی مقرر کرنا اور اس امر کا بیان کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس امت محمدیہ میں سب سے زیادہ علم والے، سب سے زیادہ بردباری والے اور سب (یعنی اکثر) سے پہلے مسلمان ہونے والے تھے
حدیث نمبر: 12323
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَا بَعَثْتَنِي أَكُونُ كَالسِّكَّةِ الْمُحْمَاةِ أَمِ الشَّاهِدُ يَرَى مَا لَا يَرَى الْغَائِبُ قَالَ ”الشَّاهِدُ يَرَى مَا لَا يَرَى الْغَائِبُ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول!جب آپ مجھے بھیج ہی رہے ہیں تو اب میں (آپ کے حکم پر عمل کرنے کے لیے) گرم سکّہ کی طرح بن جاؤں یا ایسا حاضر جو کہ وہ کچھ دیکھ رہا ہے جسے غائب نہیں دیکھ سکتا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایسا حاضر جو کہ وہ کچھ دیکھ رہا ہے جسے غائب نہیں دیکھ سکتا۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ایک فرد کو قتل کرنے کے لیے بھیجا تھا، آپ یہ پوچھنا چاہتے تھے کہ وہ بِن دیکھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی فوراً تعمیل کریں یا حالات و واقعات اور قرائن و شواہد کو دیکھ کر فیصلہ کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواباً دوسری چیز کو مناسب قرار دیا۔
جو اہل علم اس حدیث کی شرح پڑھنا چاہتے ہیں وہ سلسلہ صحیحہ: ۴/ ۵۲۷ حدیث نمبر ۱۹۰۴ میں مذکورہ طرق اور ان سے شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ کے کیے ہوئے استنباط کا مطالعہ کریں۔
جو اہل علم اس حدیث کی شرح پڑھنا چاہتے ہیں وہ سلسلہ صحیحہ: ۴/ ۵۲۷ حدیث نمبر ۱۹۰۴ میں مذکورہ طرق اور ان سے شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ کے کیے ہوئے استنباط کا مطالعہ کریں۔