الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الْفَضْلُ السَّادِسُ فِي اخْتِيَارِهِ قَاضِيَا لِلْيَمَنِ وَإِنَّهُ أكْثَرُ الأُمَّةِ الْمُحَمَّدِيَّةِ عِلْمًا وَأَعْظَمُهُمْ حِلْمًا وَأَقْدَمُهُمْ سَلَمًا باب: فصل ششم: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یمن کا قاضی مقرر کرنا اور اس امر کا بیان کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس امت محمدیہ میں سب سے زیادہ علم والے، سب سے زیادہ بردباری والے اور سب (یعنی اکثر) سے پہلے مسلمان ہونے والے تھے
حدیث نمبر: 12322
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ وَأَنَا حَدِيثُ السِّنِّ قَالَ قُلْتُ تَبْعَثُنِي إِلَى قَوْمٍ يَكُونُ بَيْنَهُمْ أَحْدَاثٌ وَلَا عِلْمَ لِي بِالْقَضَاءِ قَالَ ”إِنَّ اللَّهَ سَيَهْدِي لِسَانَكَ وَيُثَبِّتُ قَلْبَكَ“ قَالَ فَمَا شَكَكْتُ فِي قَضَاءٍ بَيْنَ اثْنَيْنِ بَعْدُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں ابھی تک نو عمر ہی تھاکہ رسول اللہ نے مجھے یمن کی طرف بھیج دیا، میں نے کہا: آپ مجھے ایسے لوگوں کی طرف روانہ کر رہے ہیں، جن کے مابین جھگڑے ہوں گے اور میں تو فیصلے کرنے کا علم نہیں رکھتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہاری زبان کو درست اور دل کو مضبوط رکھے گا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس کے بعد مجھے دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کرنے میں کبھی تردد نہیں ہوا۔