الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الْفَضْلُ الْخَامِسُ فِي اخْتِيَارِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَلِيًّا لَا خُذِ الراية يَوْمَ خَيْبََر وَفِيهِ مَنقَبَةٌ لِعَلِى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَمُعْجِرَةٌ لِلنَّبِيٌ صلَّى اللهُ عَليهِ وسَلمَ باب: فصل پنجم: غزوۂ خیبر کے روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جھنڈا دینے کے لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو منتخب کرنا اور اس میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت او رنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزہ کا بیان
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ يَوْمَ خَيْبَرَ ”لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ“ فَتَطَاوَلْنَا لَهَا فَقَالَ ”ادْعُوا لِي عَلِيًّا“ فَأُتِيَ بِهِ أَرْمَدَ فَبَصَقَ فِي عَيْنَيْهِ وَدَفَعَ الرَّايَةَ إِلَيْهِ فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ} [آل عمران: 61] دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ وَحَسَنًا وَحُسَيْنًا فَقَالَ ”اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلِي“سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے خیبر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: میں یہ جھنڈا ایسے آدمی کو دوں گا، جسے اللہ اور اسکے رسول سے محبت اور اللہ اور اس کا رسول بھی اس سے محبت کرتے ہیں۔ ہم سب نے جھنڈا حاصل کرنے کی خواہش میں گردنیں اٹھائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: علی کو بلاؤ۔ پس انہیں لایا گیا، لیکن ان کی آنکھیں دکھتی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں لعاب مبارک لگایا اور جھنڈا ان کے حوالے کر دیا، اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں فتح نصیب فرمائی اور جب یہ آیت {نَدْعُ أَبْنَائَنَا وَأَبْنَائَکُمْ}نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی، سیدہ فاطمہ، سیدنا حسن اور سیدنا حسین کو بلایا اور فرمایا: یااللہ! یہ لوگ میرے اہل ہیں۔