حدیث نمبر: 1232
عَنْ جُبَيْرٍ بْنِ مُطْعِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ فِي سَفَرٍ لَهُ قَالَ: ((مَنْ يَكْلَؤُنَا اللَّيْلَةَ لَا نَرْقُدُ عَنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ؟)) قَالَ بِلَالٌ: أَنَا، فَاسْتَقْبَلَ مَطْلَعَ الشَّمْسِ فَضُرِبَ عَلَى آذَانِهِمْ فَمَا أَيْقَظَهُمْ إِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ فَقَامُوا فَأَدَّوْهَا ثُمَّ تَوَضَّأُوا فَأَذَّنَ بِلَالٌ فَصَلَّوْا الرَّكْعَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّوْا الْفَجْرَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا جبیر بن مطعمؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سفر میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج رات کون ہمارا پہرہ دے گا، کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم نمازِ فجر سے سو جائیں۔ سیدنا بلالؓ نے کہا: جی میں، پس وہ سورج طلوع ہونے کی جگہ کی طرف منہ کر کے بیٹھ گئے، تو ان پر نیند ڈال دی گئی اور ان کو سورج کی گرمی نے بیدار کیا، پس لوگ کھڑے ہوئے اور اس نماز کو ادا کرنا چاہا، پس وضوکیا، پھر سیدنا بلالؓ نے اذان دی، پھر لوگوں نے دو دو سنتیں ادا کیں اور پھر نماز فجر ادا کی۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1232
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه النسائي: 1/ 298 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16746 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16867»