الفتح الربانی
كتاب الصلاة— نماز کی کتاب
بَابُ مَنْ نَامَ عَنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ باب: سورج طلوع ہونے تک نمازِ فجر سے سوئے رہنے والے کا بیان
عَنْ جُبَيْرٍ بْنِ مُطْعِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ فِي سَفَرٍ لَهُ قَالَ: ((مَنْ يَكْلَؤُنَا اللَّيْلَةَ لَا نَرْقُدُ عَنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ؟)) قَالَ بِلَالٌ: أَنَا، فَاسْتَقْبَلَ مَطْلَعَ الشَّمْسِ فَضُرِبَ عَلَى آذَانِهِمْ فَمَا أَيْقَظَهُمْ إِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ فَقَامُوا فَأَدَّوْهَا ثُمَّ تَوَضَّأُوا فَأَذَّنَ بِلَالٌ فَصَلَّوْا الرَّكْعَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّوْا الْفَجْرَسیدنا جبیر بن مطعمؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سفر میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج رات کون ہمارا پہرہ دے گا، کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم نمازِ فجر سے سو جائیں۔ سیدنا بلالؓ نے کہا: جی میں، پس وہ سورج طلوع ہونے کی جگہ کی طرف منہ کر کے بیٹھ گئے، تو ان پر نیند ڈال دی گئی اور ان کو سورج کی گرمی نے بیدار کیا، پس لوگ کھڑے ہوئے اور اس نماز کو ادا کرنا چاہا، پس وضوکیا، پھر سیدنا بلالؓ نے اذان دی، پھر لوگوں نے دو دو سنتیں ادا کیں اور پھر نماز فجر ادا کی۔