حدیث نمبر: 12318
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ الرَّايَةَ فَهَزَّهَا ثُمَّ قَالَ ”مَنْ يَأْخُذُهَا بِحَقِّهَا“ فَجَاءَ فُلَانٌ فَقَالَ أَنَا قَالَ ”أَمِطْ“ ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ ”أَمِطْ“ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”وَالَّذِي كَرَّمَ وَجْهَ مُحَمَّدٍ لَأُعْطِيَنَّهَا رَجُلًا لَا يَفِرُّ هَاكَ يَا عَلِيُّ“ فَانْطَلَقَ حَتَّى فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ خَيْبَرَ وَفَدَكَ وَجَاءَ بِعَجْوَتِهِمَا وَقَدِيدِهِمَا قَالَ مُصْعَبٌ بِعَجْوَتِهَا وَقَدِيدِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جھنڈا پکڑ کر لہرایا اور فرمایا: کون ہے جو اس جھنڈے کو لے کر اس کا حق ادا کرے گا؟ ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: جی میں ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہٹ جاؤ۔ پھر ایک اور آدمی آیا ، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم بھی ہٹ جاؤ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے کو عزت سے نوازا ہے، میں یہ جھنڈا ایسے آدمی کو دوں گا، جو میدان جنگ سے فرار نہیں ہوگا، اے علی! یہ لو جھنڈا۔ چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ جھنڈا تھامے روانہ ہو گئے تاآنکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں خیبر اور فدک فتح کرا دیا اور وہ وہاں کی عجوہ نامی کھجور اور دھوپ میں خشک کیا ہوا گوشت لے کر واپس لوٹے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12318
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف علي نكارة في متنه، عبد الله بن عصمة العجلي تفرد بھذا الحديث، وھو ممن لا يحتمل تفرده، اخرجه ابويعلي: 1346، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11122 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11139»