الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الْفَضْلُ الْخَامِسُ فِي اخْتِيَارِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَلِيًّا لَا خُذِ الراية يَوْمَ خَيْبََر وَفِيهِ مَنقَبَةٌ لِعَلِى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَمُعْجِرَةٌ لِلنَّبِيٌ صلَّى اللهُ عَليهِ وسَلمَ باب: فصل پنجم: غزوۂ خیبر کے روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جھنڈا دینے کے لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو منتخب کرنا اور اس میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت او رنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزہ کا بیان
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ الرَّايَةَ فَهَزَّهَا ثُمَّ قَالَ ”مَنْ يَأْخُذُهَا بِحَقِّهَا“ فَجَاءَ فُلَانٌ فَقَالَ أَنَا قَالَ ”أَمِطْ“ ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ ”أَمِطْ“ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”وَالَّذِي كَرَّمَ وَجْهَ مُحَمَّدٍ لَأُعْطِيَنَّهَا رَجُلًا لَا يَفِرُّ هَاكَ يَا عَلِيُّ“ فَانْطَلَقَ حَتَّى فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ خَيْبَرَ وَفَدَكَ وَجَاءَ بِعَجْوَتِهِمَا وَقَدِيدِهِمَا قَالَ مُصْعَبٌ بِعَجْوَتِهَا وَقَدِيدِهَاسیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جھنڈا پکڑ کر لہرایا اور فرمایا: کون ہے جو اس جھنڈے کو لے کر اس کا حق ادا کرے گا؟ ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: جی میں ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہٹ جاؤ۔ پھر ایک اور آدمی آیا ، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم بھی ہٹ جاؤ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے کو عزت سے نوازا ہے، میں یہ جھنڈا ایسے آدمی کو دوں گا، جو میدان جنگ سے فرار نہیں ہوگا، اے علی! یہ لو جھنڈا۔ چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ جھنڈا تھامے روانہ ہو گئے تاآنکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں خیبر اور فدک فتح کرا دیا اور وہ وہاں کی عجوہ نامی کھجور اور دھوپ میں خشک کیا ہوا گوشت لے کر واپس لوٹے۔