الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الْفَضْلُ الرَّابِعُ فِي قَوْلِهِ صلى الله عليه وسلم لِلْإِمَامِ عَلَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هُرُونَ مِنْ مُوسَى الخ باب: فصل چہارم: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا امام علی رضی اللہ عنہ کے حق میں فرمانا: تمہاری میرے ساتھ وہی نسبت ہے، جو حضرت ہارون علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی، … ۔
حدیث نمبر: 12314
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُخَلِّفَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لَهُ عَلِيٌّ مَا يَقُولُ النَّاسُ فِيَّ إِذَا خَلَّفْتَنِي قَالَ فَقَالَ ”مَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَيْسَ بَعْدِي نَبِيٌّ أَوْ لَا يَكُونُ بَعْدِي نَبِيٌّ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (غزوۂ تبوک کے موقع پر ) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو پیچھے چھوڑ جانے کا ارادہ کیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ مجھے یوں پیچھے چھوڑ جائیں گے تو لوگ میرے بارے میں کیا کہیں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیاتمہیں یہ پسند نہیں کہ تمہارا تعلق میرے ساتھ وہی ہو، جو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہارون علیہ السلام کا تھا، الایہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔