الفتح الربانی
كتاب الصلاة— نماز کی کتاب
بَابُ مَنْ نَامَ عَنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ باب: سورج طلوع ہونے تک نمازِ فجر سے سوئے رہنے والے کا بیان
حدیث نمبر: 1231
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: عَرَّسْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نَسْتَيْقِظْ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لِيَأْخُذْ كُلُّ رَجُلٍ بِرَأْسِ رَاحِلَتِهِ، فَإِنَّ هَٰذَا مَنْزِلٌ حَضَرَنَا فِيهِ الشَّيْطَانُ)) قَالَ: فَفَعَلْنَا، قَالَ: فَدَعَا بِالْمَاءِ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّى الْغَدَاةَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ پڑاؤ ڈالا اور سورج طلوع ہونے سے پہلے بیدار نہ ہو سکے، پس جب جاگے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر آدمی اپنی سواری کا سر پکڑے (اور یہاں سے چل دے)، کیونکہ اس منزل میں ہمارے پاس شیطان حاضر ہوا ہے، پس ہم نے ایسے ہی کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی منگوا کر وضو کیا، پھر فجر سے پہلے دو سنتیں ادا کیں، پھر نماز کھڑی کر دی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ فجر پڑھائی۔