حدیث نمبر: 12307
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ أَنَّهُ شَهِدَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الرَّحْبَةِ قَالَ أَنْشُدُ اللَّهَ رَجُلًا سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَشَهِدَهُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ إِلَّا قَامَ وَلَا يَقُومُ إِلَّا مَنْ قَدْ رَآهُ فَقَامَ اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا فَقَالُوا قَدْ رَأَيْنَاهُ وَسَمِعْنَاهُ حَيْثُ أَخَذَ بِيَدِهِ يَقُولُ ”اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ وَانْصُرْ مَنْ نَصَرَهُ وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَهُ“ فَقَامَ إِلَّا ثَلَاثَةٌ لَمْ يَقُومُوا فَدَعَا عَلَيْهِم750 مَرَّةً فَأَصَابَتْهُمْ دَعْوَتُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رحبہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا، انھوں نے کہا: میں اس آدمی کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں جو غدیر خم والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا، وہ کھڑا ہو جائے، یہ بات سن کر بارہ آدمی کھڑے ہو گئے، سب نے کہا:ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا ہاتھ بھی پکڑا ہوا تھا: یا اللہ! جو اس علی سے دوستی رکھے تو بھی اسے اپنا دوست رکھ، جو اس سے عداوت رکھے تو بھی ا س سے عداوت رکھ، جو اس کی مدد کرے تو بھی ا س کی مدد کر اور جو اسے چھوڑ جائے تو بھی اسے چھوڑ دے۔ صرف تین آدمی نہیں اٹھے تھے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان پر بددعا کی اور ان کی بددعاان کو لگ گئی تھی۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12307
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره دون قوله: وَانْصُرْ مَنْ نَصَرَهُ، وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَهُ وھذا اسناد ضعيف لجھالة الوليد بن عقبة وسماك بن عبيد، وانظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 964»