حدیث نمبر: 12306
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ شَهِدْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الرَّحْبَةِ يَنْشُدُ النَّاسَ أَنْشُدُ اللَّهَ مَنْ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ ”مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ“ لَمَّا قَامَ فَشَهِدَ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَامَ اثْنَا عَشَرَ بَدْرِيًّا كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَحَدِهِمْ فَقَالُوا نَشْهَدُ أَنَّا سَمِعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ ”أَلَسْتُ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْوَاجِي أُمَّهَاتُهُمْ“ فَقُلْنَا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”فَمَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رحبہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر کہہ رہے تھے: میں اس آدمی کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں، جس نے غدیر خم والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: میں جس کا دوست ہوں، علی بھی اس کا دوست ہے۔ وہ اٹھ کر گواہی دے، یہ بات سن کر بارہ بدری صحابہ کھڑے ہوئے وہ منظر میری آنکھوں کے سامنے ہے، گویا میں ان میں سے ہر ایک کو دیکھ رہا ہوں، ان سب نے کہا ہم گواہی دیتے ہیں کہ ہم نے غدیر خم کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: کیا میں مومنین پر ان کی جانوں سے زیادہ حق نہیں رکھتا؟ اور کیا میری ازواج ان کی مائیں نہیں ہیں؟ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! بالکل بات ایسے ہی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں جس کا دوست ہوں، علی بھی اس کا دوست ہے، اے اللہ! تو اس آدمی کو دوست رکھ، جو علی کو دوست رکھتا ہے اور جو اس سے عداوت رکھے، تو بھی اس سے عداوت رکھ۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12306
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، اخرجه ابويعلي: 567، والبزار: 632 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 961 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 961»