حدیث نمبر: 12305
عَنْ رِيَاحِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ جَاءَ رَهْطٌ إِلَى عَلِيٍّ بِالرَّحْبَةِ فَقَالُوا السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا مَوْلَانَا قَالَ كَيْفَ أَكُونُ مَوْلَاكُمْ وَأَنْتُمْ قَوْمٌ عَرَبٌ قَالُوا سَمِعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ يَقُولُ ”مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَإِنَّ هَذَا مَوْلَاهُ“ قَالَ رِيَاحٌ فَلَمَّا مَضَوْا تَبِعْتُهُمْ فَسَأَلْتُ مَنْ هَؤُلَاءِ قَالُوا نَفَرٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فِيهِمْ أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ قَالَ رَأَيْتُ قَوْمًا مِنَ الْأَنْصَارِ قَدِمُوا عَلَى عَلِيٍّ فِي الرَّحْبَةِ فَقَالَ مَنِ الْقَوْمُ قَالَ مَوَالِيكَ أَيْ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

ریاح بن حارث سے مروی ہے کہ لوگوں کی ایک جماعت رحبہ کے مقام پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور انھوں نے کہا: اے ہمارے مولی! تم پر سلامتی ہو، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تمہارا مولیٰ کیسے ہوسکتا ہوں، تم تو عرب قوم ہو؟ ان لوگوں نے کہا: ہم نے غدیر خم کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے سنا تھا کہ میں جس کا مولیٰ ہوں، یہ علی بھی اس کا مولیٰ ہے۔ ریاح کہتے ہیں: جب وہ لوگ چلے گئے تو میں ان کے پیچھے ہولیا اور میں نے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ لوگوں نے بتلایا کہ یہ انصاری لوگ ہیں، ان میں سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بھی تھے۔
۔ (دوسری سند) ریاح کہتے ہیں: میں نے انصاریوں کی ایک جماعت دیکھی، وہ رحبہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تم کون لوگ ہو؟انہوں نے کہا، اے امیر المومنین! ہم آپ کے دوست ہیں، پھر مذکورہ حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12305
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، اخرجه بنحوه ابن ابي شيبة: 12/ 60، والطبراني: 4052، 4053 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23563) انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23959»