الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الْفَصْلُ الثَّانِي وَفِيهِ أَحَادِيثُ مُتَفَرِّقَةٌ فِي مَنَاقِبِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: فصل دوم: سید نا علی رضی اللہ عنہ کے مناقب کے بارے میں متفرق احادیث
عَنْ مَيْمُونٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ وَأَنَا أَسْمَعُ نَزَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِوَادٍ يُقَالُ لَهُ وَادِي خُمٍّ فَأَمَرَ بِالصَّلَاةِ فَصَلَّاهَا بِهَجِيرٍ قَالَ فَخَطَبَنَا وَظُلِّلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِثَوْبٍ عَلَى شَجَرَةِ سَمُرَةٍ مِنَ الشَّمْسِ فَقَالَ ”أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَوْ لَسْتُمْ تَشْهَدُونَ أَنِّي أَوْل اللَّهُ عَلَيْكَ وَرَسُولُهُ“ قَالُوا بَلَى قَالَ ”فَمَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَإِنَّ عَلِيًّا مَوْلَاهُ اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ“سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ساتھ ایک وادی میں اترے، اس کو وادی خُم کہتے تھے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز کا حکم دیا اور سخت گرمی میں ظہر کی نماز پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور دھوپ سے بچانے کے لیے کیکر کے درخت پر کپڑا ڈال کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سایہ کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے نہیں ہو، یا کیا تم یہ گواہی نہیں دیتے کہ میں ہر مومن کے اس کے نفس سے بھی زیادہ قریب ہوں؟ صحابہ نے کہا: جی کیوں نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں جس کا دوست ہوں، علی بھی اس کا دوست ہے، اے اللہ! تو اس سے دشمنی رکھ، جو علی سے دشمنی رکھتا ہے اور تو اس کو دوست رکھ، جو علی کو دوست رکھتا ہے۔
شیعہ لوگوں کا خیال ہے کہ لفظ مولٰی کے معانی متصرف کے ہیں، یعنی جن امور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تصرف کرنے کا حق حاصل تھا، وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھی حاصل تھا، مومنوں کے معاملات بھی ایک چیز تھی، اس لیے سیدنا علی بھی امام ہوں گے۔ لیکن طیبی نے کہا: ولایت کو اس امامت پر محمول نہیں کیا جا سکتا، جس کا معنی مومنوں کے امور میں تصرف کرنا ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی زندگی میں مستقل اور واحد متصرف تھے(اس وصف میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کوئی دوسرا شریک نہ تھا)، اس لیے ولایت کو محبت اور اسلام دوستی پر محمول کرنا چاہیے۔ (ملخص از مرقاۃ المفاتیح: ۱۰/ ۴۶۳، ۴۶۴)
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: شیعہ لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ حدیث نقل کرتے ہیں: ((اِنَّہُ خَلِیْفَتِیْ مِنْ بَعْدِیْ۔)) … میرے بعد وہ خلیفہ ہوں گے۔
لیکن یہ روایت کسی طرح بھی صحیح نہیںہے، بلکہ یہ ان شیعوں کی باطل روایات میں سے ہے۔ تاریخی واقعہ بھی اس کی تکذیب پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ اگر یہ حدیث آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قول ہوتی تو ایسے ہی واقع ہوتا کہ سب سے پہلے سیدنا علی رضی اللہ عنہ خلیفہ بنتے اور سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ نہ بنتے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان وحی ہوتا ہے اور وحی میں جو بات جیسے بیان کی جاتی ہے، وہ اسی طرح واقع ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کی مخالفت بھی نہیں کرتا۔ میں نے ضعیفہ (۴۹۲۳، ۴۹۳۲) میں اس قسم کی مرویات ذکر کر کے ان کا بطلان واضح کیا ہے۔ (صحیحہ: ۱۷۵۰)