الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الْفَصْلُ الثَّانِي وَفِيهِ أَحَادِيثُ مُتَفَرِّقَةٌ فِي مَنَاقِبِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: فصل دوم: سید نا علی رضی اللہ عنہ کے مناقب کے بارے میں متفرق احادیث
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كُنَّا نَقُولُ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ خَيْرُ النَّاسِ ثُمَّ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرُ وَلَقَدْ أُوتِيَ ابْنُ أَبِي طَالِبٍ ثَلَاثَ خِصَالٍ لَأَنْ تَكُونَ لِي وَاحِدَةٌ مِنْهُنَّ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ زَوَّجَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ابْنَتَهُ وَوَلَدَتْ لَهُ وَسَدَّ الْأَبْوَابَ إِلَّا بَابَهُ فِي الْمَسْجِدِ وَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ يَوْمَ خَيْبَرَسیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں کہا کرتے تھے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب لوگوں سے افضل ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور ان کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہیں اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو تین ایسی خصوصیات نصیب ہوئی ہیں کہ اگر مجھے ان میں سے کوئی ایک مل جاتی تووہ مجھے سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ محبوب ہوتی، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیٹی کی ان سے شادی کی،ان سے ان کی اولاد ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے دروازے کے علاوہ مسجد میں کھلنے والے تمام دروازے بند کر وادئیے اور خیبر کے روز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں جھنڈا عطا فرمایا۔