حدیث نمبر: 12300
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كُنَّا نَقُولُ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ خَيْرُ النَّاسِ ثُمَّ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرُ وَلَقَدْ أُوتِيَ ابْنُ أَبِي طَالِبٍ ثَلَاثَ خِصَالٍ لَأَنْ تَكُونَ لِي وَاحِدَةٌ مِنْهُنَّ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ زَوَّجَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ابْنَتَهُ وَوَلَدَتْ لَهُ وَسَدَّ الْأَبْوَابَ إِلَّا بَابَهُ فِي الْمَسْجِدِ وَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ يَوْمَ خَيْبَرَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں کہا کرتے تھے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب لوگوں سے افضل ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور ان کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہیں اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو تین ایسی خصوصیات نصیب ہوئی ہیں کہ اگر مجھے ان میں سے کوئی ایک مل جاتی تووہ مجھے سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ محبوب ہوتی، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیٹی کی ان سے شادی کی،ان سے ان کی اولاد ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے دروازے کے علاوہ مسجد میں کھلنے والے تمام دروازے بند کر وادئیے اور خیبر کے روز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں جھنڈا عطا فرمایا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12300
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ھشام بن سعد ضعّفوه، يكتب حديثه للمتابعات، ولا يحتج به، اخرجه ابويعلي: 5601، وابن ابي شيبة: 12/ 9 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4797 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4797»