الفتح الربانی
كتاب الصلاة— نماز کی کتاب
بَابُ مَنْ نَامَ عَنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ باب: سورج طلوع ہونے تک نمازِ فجر سے سوئے رہنے والے کا بیان
حدیث نمبر: 1230
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَعَرَّسَ مِنَ اللَّيْلِ فَرَقَدَ وَلَمْ يَسْتَيْقِظْ إِلَّا بِالشَّمْسِ، قَالَ: فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا فَأَذَّنَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، قَالَ (الرَّاوِي): فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَا تَسُرُّنِي الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا بِهَا يَعْنِي الرُّخْصَةَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سفر میں تھے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رات کو پڑاؤ ڈالا اور سو گئے اور سورج کی گرمی کے ساتھ ہی بیدار ہوئے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا بلال ؓ کو حکم دیا، انھوں نے اذا ن دی اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں۔ سیدنا ابن عباس ؓ نے کہا: اس رخصت کے مقابلے میں مجھے دنیا وما فیہا بھی خوش نہیں کر سکتی۔