الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الْفَصْلُ الثَّانِي وَفِيهِ أَحَادِيثُ مُتَفَرِّقَةٌ فِي مَنَاقِبِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: فصل دوم: سید نا علی رضی اللہ عنہ کے مناقب کے بارے میں متفرق احادیث
حدیث نمبر: 12296
عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَتْ لِي أَيُسَبُّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيكُمْ قُلْتُ مَعَاذَ اللَّهِ أَوْ سُبْحَانَ اللَّهِ أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”مَنْ سَبَّ عَلِيًّا فَقَدْ سَبَّنِي“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو عبداللہ جدلی کہتے ہیں: میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے مجھ سے کہا: کیا تمہارے ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو برا بھلا کہا جا رہا ہے؟ میں نے کہا: اللہ کی پناہ، یا کہا: سبحان اللہ! بڑا تعجب ہے، یا اسی قسم کا کوئی کلمہ کہا، (یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو برا بھلا کہا جائے) انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جس نے علی کو برا بھلا کہا، اس نے یقینا مجھے برا بھلا کہا۔