حدیث نمبر: 12293
عَنْ عَمْرِو بْنِ شَأْسٍ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الْحُدَيْبِيَةِ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ عَلِيٍّ إِلَى الْيَمَنِ فَجَفَانِي فِي سَفَرِي ذَلِكَ حَتَّى وَجَدْتُ فِي نَفْسِي عَلَيْهِ فَلَمَّا قَدِمْتُ أَظْهَرْتُ شِكَايَتَهُ فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى بَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ ذَاتَ غُدْوَةٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَلَمَّا رَآنِي أَمَدَّنِي عَيْنَيْهِ يَقُولُ حَدَّدَ إِلَيَّ النَّظَرَ حَتَّى إِذَا جَلَسْتُ قَالَ ”يَا عَمْرُو وَاللَّهِ لَقَدْ آذَيْتَنِي“ قُلْتُ أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أُوذِيَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”بَلَى مَنْ آذَى عَلِيًّا فَقَدْ آذَانِي“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عمر و بن شاس اسلمی رضی اللہ عنہ ، جو کہ اصحابِ حدیبیہ میں سے تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی معیت میں یمن کی جانب گیا، دوران سفر انہوں نے میرے ساتھ کچھ سختی کی، اس سے مجھے دل میں بہت کوفت ہوئی، جب میں واپس آیا تو میں نے اعلانیہ مسجد میں ان کا شکوہ کردیا، یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچ گئی، میں ایک دن صبح کے وقت مسجد میں داخل ہو ا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کے ہمراہ تشریف فرما تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی نظریں مجھ پر گاڑھ دیں، پھر میں بیٹھ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عمرو! اللہ کی قسم! تو نے مجھے تکلیف دی ہے۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں اس بات سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں کہ آپ کو ایذا پہنچاؤں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں، جس نے علی کو ایذا دی، اس نے درحقیقت مجھے تکلیف پہنچائی۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12293
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، الفضل بن معقل ليس بمشھور، وترجم له البخاري وابن ابي حاتم ولم يذكرا فيه جرحا ولاتعديلا، اخرجه الحاكم: 3/122، والبزار: 2561، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15960 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16056»