الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الْفَصْلُ الثَّانِي وَفِيهِ أَحَادِيثُ مُتَفَرِّقَةٌ فِي مَنَاقِبِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: فصل دوم: سید نا علی رضی اللہ عنہ کے مناقب کے بارے میں متفرق احادیث
عَنْ عَمْرِو بْنِ شَأْسٍ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الْحُدَيْبِيَةِ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ عَلِيٍّ إِلَى الْيَمَنِ فَجَفَانِي فِي سَفَرِي ذَلِكَ حَتَّى وَجَدْتُ فِي نَفْسِي عَلَيْهِ فَلَمَّا قَدِمْتُ أَظْهَرْتُ شِكَايَتَهُ فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى بَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ ذَاتَ غُدْوَةٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَلَمَّا رَآنِي أَمَدَّنِي عَيْنَيْهِ يَقُولُ حَدَّدَ إِلَيَّ النَّظَرَ حَتَّى إِذَا جَلَسْتُ قَالَ ”يَا عَمْرُو وَاللَّهِ لَقَدْ آذَيْتَنِي“ قُلْتُ أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أُوذِيَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”بَلَى مَنْ آذَى عَلِيًّا فَقَدْ آذَانِي“سیدنا عمر و بن شاس اسلمی رضی اللہ عنہ ، جو کہ اصحابِ حدیبیہ میں سے تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی معیت میں یمن کی جانب گیا، دوران سفر انہوں نے میرے ساتھ کچھ سختی کی، اس سے مجھے دل میں بہت کوفت ہوئی، جب میں واپس آیا تو میں نے اعلانیہ مسجد میں ان کا شکوہ کردیا، یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچ گئی، میں ایک دن صبح کے وقت مسجد میں داخل ہو ا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کے ہمراہ تشریف فرما تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی نظریں مجھ پر گاڑھ دیں، پھر میں بیٹھ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عمرو! اللہ کی قسم! تو نے مجھے تکلیف دی ہے۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں اس بات سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں کہ آپ کو ایذا پہنچاؤں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں، جس نے علی کو ایذا دی، اس نے درحقیقت مجھے تکلیف پہنچائی۔