الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الْبَابُ الْأَوَّلُ فِي خِلَافَتِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَإِشَارَةِ النَّبِي ﷺ إِنِّي ذُلِكَ باب: اول: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اس طرف اشارہ کرنا
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ كَانَ لِنَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَبْوَابٌ شَارِعَةٌ فِي الْمَسْجِدِ قَالَ فَقَالَ يَوْمًا ”سُدُّوا هَذِهِ الْأَبْوَابَ إِلَّا بَابَ عَلِيٍّ“ قَالَ فَتَكَلَّمَ فِي ذَلِكَ النَّاسُ قَالَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ تَعَالَى وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ ”أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي أَمَرْتُ بِسَدِّ هَذِهِ الْأَبْوَابِ إِلَّا بَابَ عَلِيٍّ وَقَالَ فِيهِ قَائِلُكُمْ وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا سَدَدْتُ شَيْئًا وَلَا فَتَحْتُهُ وَلَكِنِّي أُمِرْتُ بِشَيْءٍ فَاتَّبَعْتُهُ“سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ صحابہ کے گھروں کے دروازے مسجد میں کھلتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن فرمایا: علی کے دروازے کے سوا باقی سب دروازے بند کردو۔ لوگوں نے اس بارے میں باتیں کیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثناکی اور پھر فرمایا: أَمَّا بَعْدُ! میں نے حکم دیا ہے کہ یہ تمام دروازے بند کر دئیے جائیں، ما سواے علی کے دروازے کے، تم میں سے بعض باتیں بنانے والوں نے کچھ باتیں بنائی ہیں، اللہ کی قسم! میں نے خود کسی چیز کو نہ بند کیا ہے اور نہ کھولا ہے، مجھے تو بس جو حکم ملا ہے، میں نے اسی کی ابتاع کی ہے۔