حدیث نمبر: 12290
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ كَانَ لِنَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَبْوَابٌ شَارِعَةٌ فِي الْمَسْجِدِ قَالَ فَقَالَ يَوْمًا ”سُدُّوا هَذِهِ الْأَبْوَابَ إِلَّا بَابَ عَلِيٍّ“ قَالَ فَتَكَلَّمَ فِي ذَلِكَ النَّاسُ قَالَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ تَعَالَى وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ ”أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي أَمَرْتُ بِسَدِّ هَذِهِ الْأَبْوَابِ إِلَّا بَابَ عَلِيٍّ وَقَالَ فِيهِ قَائِلُكُمْ وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا سَدَدْتُ شَيْئًا وَلَا فَتَحْتُهُ وَلَكِنِّي أُمِرْتُ بِشَيْءٍ فَاتَّبَعْتُهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ صحابہ کے گھروں کے دروازے مسجد میں کھلتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن فرمایا: علی کے دروازے کے سوا باقی سب دروازے بند کردو۔ لوگوں نے اس بارے میں باتیں کیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثناکی اور پھر فرمایا: أَمَّا بَعْدُ! میں نے حکم دیا ہے کہ یہ تمام دروازے بند کر دئیے جائیں، ما سواے علی کے دروازے کے، تم میں سے بعض باتیں بنانے والوں نے کچھ باتیں بنائی ہیں، اللہ کی قسم! میں نے خود کسی چیز کو نہ بند کیا ہے اور نہ کھولا ہے، مجھے تو بس جو حکم ملا ہے، میں نے اسی کی ابتاع کی ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12290
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف ومتنه منكر، ميمون البصري الكندي ضعّفه ابن المديني ويحيي القطان وان معين وابوداود، اخرجه الحاكم: 3/ 125، والنسائي في الكبري : 8423، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19287 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19502»