حدیث نمبر: 12288
عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَأَحْدَثَ شَيْئًا فِي سَفَرِهِ فَتَعَاهَدَ قَالَ عَفَّانُ فَتَعَاقَدَ أَرْبَعَةٌ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَذْكُرُوا أَمْرَهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ عِمْرَانُ وَكُنَّا إِذَا قَدِمْنَا مِنْ سَفَرٍ بَدَأْنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ قَالَ فَدَخَلُوا عَلَيْهِ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَلِيًّا فَعَلَ كَذَا وَكَذَا فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ قَامَ الثَّانِي فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَلِيًّا فَعَلَ كَذَا وَكَذَا فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ قَامَ الثَّالِثُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَلِيًّا فَعَلَ كَذَا وَكَذَا فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ قَامَ الرَّابِعُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَلِيًّا فَعَلَ كَذَا وَكَذَا قَالَ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرَّابِعِ وَقَدْ تَغَيَّرَ وَجْهُهُ فَقَالَ ”دَعُوا عَلِيًّا دَعُوا عَلِيًّا إِنَّ عَلِيًّا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَهُوَ وَلِيُّ كُلِّ مُؤْمِنٍ بَعْدِي“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک لشکر روانہ کیا اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو ان پر امیر مقرر فرمایا،دوران سفر سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کوئی ایسا کام ہوا کہ چار صحابہ نے مل کر پکا عزم کیا کہ وہ ان کی اس بات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ذکر کریں گے، سیدنا عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہمارا معمول تھا کہ جب ہم سفر سے واپس آتے تو سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضری دیتے، آپ کو سلام کہتے۔ پس وہ کہتے ہیں: وہ چاروں آدمی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں آئے، ان میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! علی نے ایسے ایسے کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے اعراض کیا، پھر دوسرا آدمی کھڑا ہوا اور اس نے بھی یہی کہا کہ اے اللہ کے رسول! علی نے یوں یوں کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے بھی منہ موڑ لیا، پھر تیسرا آدمی اٹھ کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! علی نے ایسے ایسے کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ا س سے بھی اپنا رخ پھیر لیا، اتنے میں چوتھا آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! علی نے ایسے ایسے کیا ہے، بالآخر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چوتھے آدمی کی طرف متوجہ ہوئے، جبکہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ متغیر ہوچکا تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: علی کو چھوڑ دو، علی کو چھوڑدو، علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں، میرے بعد وہ ہر مومن کا دوست اور ساتھی ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12288
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، جعفر بن سليمان الضبعي فيه كلام وكان يتشيع، اخرجه الترمذي: 3712، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19928 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20170»