حدیث نمبر: 12277
عَنْ نَائِلَةَ بِنْتِ الْفَرَافِصَةِ امْرَأَةِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَتْ نَعَسَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانُ فَأَغْفَى فَاسْتَيْقَظَ فَقَالَ لَيَقْتُلَنَّنِي الْقَوْمُ قُلْتُ كَلَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَمْ يَبْلُغْ ذَاكَ إِنَّ رَعِيَّتَكَ اسْتَعْتَبُوكَ قَالَ إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَنَامِي وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالُوا تُفْطِرُ عِنْدَنَا اللَّيْلَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی بیوی سیدہ نائلہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ امیر المومنین سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اونگھ آئی اور سو گئے، پھر جب بیدار ہوئے تو انھوں نے کہا: یہ لوگ یقینا مجھے قتل کر ڈالیں گے، میں نے کہا: ان شاء اللہ ہر گزنہیں، ابھی تک ایسا معاملہ نہیں ہے، آپ کی رعایا آپ کو محض ڈرا دھمکا رہی ہے، انہوں نے کہا: میں نے خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے، انہوں نے کہا ہے کہ آج رات تم ہمارے ہاں روزہ افطار کر و گے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12277
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، زياد بن عبد الله، فيه نظر، وام ھلال لا تعرف ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 536 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 536»