حدیث نمبر: 12276
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ شَهِدْتُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ حُوصِرَ فِي مَوْضِعِ الْجَنَائِزِ وَلَوْ أُلْقِيَ حَجَرٌ لَمْ يَقَعْ إِلَّا عَلَى رَأْسِ رَجُلٍ فَرَأَيْتُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَشْرَفَ مِنَ الْخَوْخَةِ الَّتِي تَلِي مَقَامَ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ أَفِيكُمْ طَلْحَةُ فَسَكَتُوا ثُمَّ قَالَ أَيُّهَا النَّاسُ أَفِيكُمْ طَلْحَةُ فَسَكَتُوا ثُمَّ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَفِيكُمْ طَلْحَةُ فَقَامَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَلَا أَرَاكَ هَاهُنَا مَا كُنْتُ أَرَى أَنَّكَ تَكُونُ فِي جَمَاعَةٍ تَسْمَعُ نِدَائِي آخِرَ ثَلَاثِ مَرَّاتٍ ثُمَّ لَا تُجِيبُنِي أَنْشُدُكَ اللَّهَ يَا طَلْحَةُ تَذْكُرُ يَوْمَ كُنْتُ أَنَا وَأَنْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَوْضِعِ كَذَا وَكَذَا لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِهِ غَيْرِي وَغَيْرَكَ قَالَ نَعَمْ فَقَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَا طَلْحَةُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَمَعَهُ مِنْ أَصْحَابِهِ رَفِيقٌ مِنْ أُمَّتِهِ مَعَهُ فِي الْجَنَّةِ وَإِنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ هَذَا يَعْنِينِي رَفِيقِي مَعِيَ فِي الْجَنَّةِ“ قَالَ طَلْحَةُ اللَّهُمَّ نَعَمْ ثُمَّ انْصَرَفَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

اسلم سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جن دنوں میں عثمان رضی اللہ عنہ محصور تھے، میں اس جگہ تھا، جہاں جنازے پڑھے جاتے ہیں، اور لوگوں کا ازدحام اس قدر تھا کہ اگر پتھر پھینکا جاتا تو وہ کسی نہ کسی کے سر پر لگتا،میں نے دیکھا کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے مکان کے اس سوراخ سے باہر کو جھانکا جو مقام جبریل علیہ السلام سے متصل ہے، انہوں نے کہا: لوگو! کیا تمہارے درمیان طلحہ موجود ہیں؟ لوگ خاموش رہے، انھوں نے پھر کہا: لوگو! کیا تمہارے اندر طلحہ موجود ہیں؟ لوگ خاموش رہے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے تیسری بار کہا: لوگو! کیا تمہارے اندر طلحہ موجود ہیں؟ بالآخر سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ اٹھ کھڑے ہوئے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا میں تمہیں ان لوگوں میں نہیں دیکھ رہا؟ میں نہیں سمجھتا تھا کہ تم کسی جماعت کے اندر ہو اورمیں تمہیں تین بار پکاروں اور تم جواب تک نہ دو؟ طلحہ! اب میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تمہیں یا د ہے کہ ایک روز میں اور تم فلاں مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھے، میرے اور تمہارے سوا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ کوئی دوسرا ساتھی نہ تھا، سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاںـ،سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تم سے کہا تھا: طلحہ! ہر نبی کا اس کی امت میں سے ایک صحابی جنت میں اس نبی کا ساتھی ہوگا اور یہ عثمان بن عفان جنت میں میرا رفیق ہوگا۔ طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ گواہ ہے، مجھے یاد ہے، اس کے بعد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ واپس اتر گئے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12276
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، القاسم بن حكم الانصاري، وقال ابو حاتم: مجھول، وليّنه الحافظ ابن حجر، وابوعبادة عيسي بن عبد الرحمن، ضعّفه البخاري والنسائي وابن حبان، وقال ابو حاتم: منكر الحديث، ضعيف الحديْث، اخرجه البزار: 374 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 552 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 552»