حدیث نمبر: 12269
عَنِ ابْنِ أَبْزَى عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ حِينَ حُصِرَ إِنَّ عِنْدِي نَجَائِبَ قَدْ أَعْدَدْتُهَا لَكَ فَهَلْ لَكَ أَنْ تَحَوَّلَ إِلَى مَكَّةَ فَيَأْتِيَكَ مَنْ أَرَادَ أَنْ يَأْتِيَكَ قَالَ لَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”يُلْحِدُ بِمَكَّةَ كَبْشٌ مِنْ قُرَيْشٍ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ عَلَيْهِ مِثْلُ نِصْفِ أَوْزَارِ النَّاسِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

ابن ابزیٰ سے روایت ہے کہ جب سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو محصور کر دیا گیا تو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: میرے پاس عمدہ قسم کی اونٹنیاں ہیں، میں نے ان کو آپ کے لیے تیار کر رکھا ہے، اگر آپ چاہیں تو مکہ تشریف لے چلیں، اس کے بعد جو آپ کے پاس آنے کا ارادہ رکھتا ہوگا، وہ آ کر مل لے گا؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مکہ مکرمہ میں عبد اللہ نامی ایک قریشی آدمی الحاد کرے گا، اس پر تمام لوگوں کے گناہوں کے نصف کے بقدر گناہ ہوں گے۔

وضاحت:
فوائد: … حافظ ابن کثیر رحمتہ اللہ علیہ نے یہ حدیث قلم بند کرنے کے بعد(البدایۃ: ۸/ ۳۳۹) میں کہا: یہ حدیث منکر جدا ہے، اس کی سند میں ضعف ہے، یعقوب بن القمی میں شیعیت ہے، اس قسم کے راوی کا تفرد قبول نہیں ہوتا، اگر اس حدیث کو صحیح فرض کر بھی لیں تو اس سے مراد سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نہیں ہیں، کیونکہ وہ خصائلِ حمیدہ سے متصف تھے اور ان کی امارت اللہ تعالیٰ کے لیے تھی، پھر معاویہ بن یزید کے بعد بہر صورت حاکم بننا ان ہی کا حق تھا اور وہ مروان بن حکم سے زیادہ اہل تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12269
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ومتنه منكر شبه موضوع، اخرجه البزار: 375، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 461 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 461»