الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الْفَضْلُ الْأَوَّلُ فِي عَطْفِ بَعْضِ الْصَحَابَةِ عَلَى عُثْمَانَ يَوْمَ الدَّارِ باب: پنجم: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ اور اس موقع پر ان کی طرف سے اور ان سے کی جانے والی گفتگو کا بیان اس باب کی کئی فصلیں ہیں فصل اول: محاصرہ کے دنوں میں بعض صحابہ کے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف میلان رکھنے کا بیان
عَنِ ابْنِ أَبْزَى عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ حِينَ حُصِرَ إِنَّ عِنْدِي نَجَائِبَ قَدْ أَعْدَدْتُهَا لَكَ فَهَلْ لَكَ أَنْ تَحَوَّلَ إِلَى مَكَّةَ فَيَأْتِيَكَ مَنْ أَرَادَ أَنْ يَأْتِيَكَ قَالَ لَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”يُلْحِدُ بِمَكَّةَ كَبْشٌ مِنْ قُرَيْشٍ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ عَلَيْهِ مِثْلُ نِصْفِ أَوْزَارِ النَّاسِ“ابن ابزیٰ سے روایت ہے کہ جب سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو محصور کر دیا گیا تو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: میرے پاس عمدہ قسم کی اونٹنیاں ہیں، میں نے ان کو آپ کے لیے تیار کر رکھا ہے، اگر آپ چاہیں تو مکہ تشریف لے چلیں، اس کے بعد جو آپ کے پاس آنے کا ارادہ رکھتا ہوگا، وہ آ کر مل لے گا؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مکہ مکرمہ میں عبد اللہ نامی ایک قریشی آدمی الحاد کرے گا، اس پر تمام لوگوں کے گناہوں کے نصف کے بقدر گناہ ہوں گے۔