حدیث نمبر: 12265
عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ جُنْدُبٌ لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْجَرَعَةِ وَثَمَّ رَجُلٌ قَالَ فَقَالَ وَاللَّهِ لَيُهْرَاقَنَّ الْيَوْمَ دِمَاءٌ قَالَ قَالَ الرَّجُلُ كَلَّا وَاللَّهِ قَالَ هَلَّا قُلْتَ بَلَى وَاللَّهِ قَالَ كَلَّا وَاللَّهِ إِنَّهُ لَحَدِيثُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنِيهِ قَالَ قُلْتُ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاكَ جَلِيسَ سَوْءٍ مُنْذُ الْيَوْمَ تَسْمَعُنِي أَحْلِفُ وَقَدْ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَنْهَانِي قَالَ ثُمَّ قُلْتُ مَالِي وَلِلْغَضَبِ قَالَ فَتَرَكْتُ الْغَضَبَ وَأَقْبَلْتُ أَسْأَلُهُ قَالَ وَإِذَا الرَّجُلُ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

جندب سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جرعہ والے دن وہاں ایک آدمی تھا، اس نے کہا: اللہ کی قسم! آج ضرور ضرور کشت و خون ہوگا، اس کی بات سن کر ایک اور آدمی نے کہا: اللہ کی قسم! ہر گز نہیں، پہلا شخص کہنے لگا: تم نے یوں کیوں نہیں کہا کہ اللہ کی قسم ہاں ضرور کشت و خون ہوگا؟ دوسرے نے کہا: اللہ کی قسم! ایسا ہرگز نہیں ہوگا، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث ہے، جو آپ نے مجھ سے خود بیان کی تھی، میں نے کہا: آج آپ میرے برے ہم نشین ہیں۔ میں ایک بات کی قسم اٹھا رہا ہوں اور آپ مجھے سن بھی رہے ہیں، جبکہ اس بارے میں تونے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث بھی سنی ہوئی ہے اور مجھے آپ روک بھی نہیں رہے۔ پھر میں نے سوچا کہ اس میں غصہ کرنے کی کیا ضرورت ہے، چنانچہ میں نے ناراضگی دور کر دی اور میں اس ساتھی کی طرف لپکا اور اس سے سوال کرنے لگ گیا۔ پھر پتا چلا کہ وہ آدمی حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ تھے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12265
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 2893، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23388 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23780»