الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الفضلُ الرَّابِعُ فِي صِفَتِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَذِكْرِ شَيْءٍ مِنْ خُطْبِهِ باب: فصل چہارم: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی صفات اور ان کے بعض خطبوں کا بیان
عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ زَاهِرٍ أَبَا رُوَاعٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَخْطُبُ فَقَالَ: إِنَّا وَاللّٰهِ! قَدْ صَحِبْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ، وَكَانَ يَعُودُ مَرْضَانَا، وَيَتْبَعُ جَنَائِزَنَا، وَيَغْزُو مَعَنَا، وَيُوَاسِينَا بِالْقَلِيلِ وَالْكَثِيرِ، وَإِنَّ نَاسًا يُعْلِمُونِي بِهِ، عَسٰى أَنْ لَا يَكُونَ أَحَدُهُمْ رَآهُ قَطُّ۔عباد بن زاہرسے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا، آپ نے کہا:’ اللہ کی قسم! ہمیں سفر وحضر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت میں رہنے کا شرف حاصل ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے مریضوں کی عیادت کرتے تھے، ہمارے جنازوں میں شرکت کرتے تھے، ہمارے ساتھ مل کر لڑائی کرتے تھے اور کوئی چیز تھوڑی ہوتی یا زیادہ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں اس میں شریک کیا کرتے تھے۔ اب کچھ لوگ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں کچھ باتیں سکھاتے ہیں حالانکہ ہوسکتا ہے کہ ان میں سے کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تک نہ ہو۔