حدیث نمبر: 12256
عَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ قَالَ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا أَنَا بِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مُتَّكِئٌ عَلَى رِدَائِهِ فَأَتَاهُ سَقَّاءَانِ يَخْتَصِمَانِ إِلَيْهِ فَقَضَى بَيْنَهُمَا ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ فَإِذَا رَجُلٌ حَسَنُ الْوَجْهِ بِوَجْنَتِهِ نَكَتَاتُ جُدَرِيٍّ وَإِذَا شَعْرُهُ قَدْ كَسَا ذِرَاعَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

حسن بن ابی حسن سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں مسجد میں داخل ہوا تو دیکھا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اپنی چادر پر ٹیک لگا کر بیٹھے تھے، اسی دوران دو آدمی جو لوگوں کو پانی پلانے کا کام کرتے، اپنے ایک جھگڑے کا فیصلہ کرانے کے لیے ان کی خدمت میں آئے، آپ نے ان کے درمیان فیصلہ کردیا، اس کے بعد میں آپ کے پاس آیا اور آپ کو بغور دیکھا، میں کیا دیکھتا ہوں کہ آپ خوبصورت چہرے والے آدمی تھے اور آپ کے رخسار پر چیچک کے کچھ داغ تھے اور آپ کے بالوں نے آپ کے بازوؤں کو ڈھانپ رکھا تھا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12256
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ابو المقدام ھشام بن زياد القرشي، ضعّفه ابن معين، والبخاري، وقال النسائي: متروك الحديث ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 537 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 537»