حدیث نمبر: 12248
عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَهُ ابْنَ أَخِي أَدْرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ لَا وَلَكِنْ خَلَصَ إِلَيَّ مِنْ عِلْمِهِ وَالْيَقِينِ مَا يَخْلُصُ إِلَى الْعَذْرَاءِ فِي سِتْرِهَا قَالَ فَتَشَهَّدَ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ فَكُنْتُ مِمَّنْ اسْتَجَابَ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَآمَنَ بِمَا بُعِثَ بِهِ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ هَاجَرْتُ الْهِجْرَتَيْنِ كَمَا قُلْتُ وَنِلْتُ صِهْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَبَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَاللَّهِ مَا عَصَيْتُهُ وَلَا غَشَشْتُهُ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

عبداللہ بن عدی بن خیار سے مروی ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: بھتیجے! کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پایا ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے علم اور یقین اس قدر صفائی کے ساتھ میرے پاس پہنچا ہے جیسے کسی پر دہ نشین خاتون کے پاس اس کے پردہ میں بھی کوئی چیز پہنچ جاتی ہے۔ پھر انہوں نے خطبہ دیا، شہادتین کا اقرار کیا اور پھر کہا: أَمَّا بَعْدُ! بے شک اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا تھا اورمیں ان لوگوں میں سے تھا، جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی بات کو قبول کیا اور میں اس دین پر ایمان لایا تھا، جس کے ساتھ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث کیا گیا تھا،پھر میں نے دو ہجرتیں بھی کی۔ (ایک ہجرتِ حبشہ اور دوسری ہجرت ِ مدینہ) اور مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دامادی کا شرف بھی حاصل ہوا اور میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیعت بھی کی، اللہ کی قسم! میں نے نہ کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کی اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خیانت کی، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دی۔

وضاحت:
فوائد: … سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ جو دعوی کر رہے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اس کو بدرجۂ اتم پورا کرنے والے تھے، رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ وَاَرْضَاہُ۔
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واقعہ، دیکھیں حدیث نمبر (۱۲۲۸۵)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12248
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 3696، 3872 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 480 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 480»