الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الْفَضْلُ الْأَوَّلُ فِيْمَا وَرَدَ فِي فَضْلِهِ وَإِشَارَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلَى فِتْنَتِهِ وَإِنَّهُ عَلَى الْحَقِّ باب: دوم: سیدنا عثمان کے مناقب اور اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان، نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی آزمائشوں کی طرف اشارہ کرنا اور ان میں ان کا حق پر ہونا
حدیث نمبر: 12243
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِتْنَةً فَمَرَّ رَجُلٌ فَقَالَ ”يُقْتَلُ فِيهَا هَذَا الْمُقَنَّعُ يَوْمَئِذٍ مَظْلُومًا“ قَالَ فَنَظَرْتُ فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک فتنہ کا ذکر کیا، اس دوران ایک آدمی کا وہاں سے گزر ہوا، اس کو دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان دنوں یہ آدمی، جو کپڑا ڈھانپ کر جا رہا ہے، مظلومیت کی حالت میں قتل ہوگا۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب میں نے جا کر دیکھا تو وہ آدمی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تھے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ وہ فتنہ تھا، جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کے آخری ایام میں ظاہر ہوا اور اس کی انتہا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت کی صورت میں نکلی۔ {اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔}