حدیث نمبر: 12242
عَنْ أَبِي حَبِيبَةَ أَنَّهُ دَخَلَ الدَّارَ وَعُثْمَانُ مَحْصُورٌ فِيهَا وَأَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَسْتَأْذِنُ عُثْمَانَ فِي الْكَلَامِ فَأَذِنَ لَهُ فَقَامَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّكُمْ تَلْقَوْنَ بَعْدِي فِتْنَةً وَاخْتِلَافًا أَوْ قَالَ اخْتِلَافًا وَفِتْنَةً“ فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ مِنَ النَّاسِ فَمَنْ لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”عَلَيْكُمْ بِالْأَمِينِ وَأَصْحَابِهِ“ وَهُوَ يُشِيرُ إِلَى عُثْمَانَ بِذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

ابو حبیبہ سے روایت ہے کہ وہ اس گھر میں داخل ہوئے، جس میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ محصور تھے اور اس نے سنا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے کچھ کہنے کی اجازت طلب کر رہے تھے، جب انہوں نے اجازت دی تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء بیان کی اور پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوسنا ہے، آپ فرما رہے تھے کہ تم میرے بعد فتنوں اور اختلافات کو پاؤ گے۔ کسی آدمی نے کہا: اللہ کے رسول! اس وقت ہمارا کون ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس امانت دار اور اس کے ساتھیوں کو لازم پکڑے رہنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ فرماتے ہوئے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔

وضاحت:
فوائد: … سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد ِ خلافت کے آخر میں جو فتنہ نمودار ہوا، اس حدیث ِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ اس میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ حق پر تھے اور یہی ان کو زیب دیتا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12242
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، اخرجه الحاكم: 3/99، وابن ابي شيبة: 12/ 50 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8541 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8522»