الفتح الربانی
كتاب الصلاة— نماز کی کتاب
بَابُ مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَوَقْتُهَا عِنْدَ ذِكْرِهَا باب: اس چیز کا بیان کہ نماز کو بھول جانے کا وقت وہ ہے،جب اس کو یاد آئے
حدیث نمبر: 1224
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَفَّانُ ثَنَا هَمَّامٌ أَنَا بِشْرُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: أَحْسِبُهُ مَرْفُوعًا: ((مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا حِينَ يَذْكُرُهَا وَمِنَ الْغَدِ لِلْوَقْتِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سمرہ بن جندبؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی نماز بھول جائے تو وہ اِس کو اُس وقت ادا کرے، جب اسے یاد آئے اور اگلے دن وقت پر پڑھے۔
وضاحت:
فوائد: … اِس حدیث کے آخری جملے کا راجح معنی یہ ہے: ایسے بندے کو چاہیے کہ ایسی نماز کو اگلے دن سے اس کے وقت پر ادا کرے اور نماز کو اس کے وقت کے بعد ادا کرنا، اس کو اپنی عادت نہ بنا لے، جیسا کہ صحیح مسلم کی سیدنا ابو قتادہ ؓکی روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((… فَلْیُصَلِّھَا حِیْنَ یَنْتَبِہُ لَھٗا، فَاِذَا کَانَ الْغَدُ فَلْیُصَلِّھَا عِنْدَ وَقْتِھَا۔)) … پس جب وہ جاگے تو وہ نماز ادا کر لے، لیکن اگلے دن اس کو وقت پر ہی ادا کرے۔ اس جملے کا یہ معنی نہیں ہے کہ ایسا آدمی ایسی نماز کو دوسرے دن وقت پر دوبارہ ادا کرے۔