الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الْبَابُ الاَوَّلُ فِي خِلَافَتِهِ وَمُبَايَعَتِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: تیسرے خلیفہ راشد امیر المومنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی خلاف سے متعلقہ ابواب باب اول: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت و بیعت کا بیان
عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ كَيْفَ بَايَعْتُمْ عُثْمَانَ وَتَرَكْتُمْ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَا ذَنْبِي قَدْ بَدَأْتُ بِعَلِيٍّ فَقُلْتُ أُبَايِعُكَ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ وَسُنَّةِ رَسُولِهِ وَسِيرَةِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ فَقَالَ فِيمَا اسْتَطَعْتُ قَالَ ثُمَّ عَرَضْتُهَا عَلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَبِلَهَاابووائل سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے کہا: یہ کیسے ہوا کہ آپ لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو چھوڑ کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی، انہوں نے کہا: اس میں میراکیا قصور ہے؟میں پہلے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گیاا ور میں نے کہا: میں اللہ کی کتاب، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی سیرت کی روشنی میں آپ کی بیعت کرتاہوں، انہوں نے کہا: ٹھیک ہے، لیکن میری طاقت کے مطابق، عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: پھرمیں نے یہ چیز سیدنا عثمان پر پیش کی تو انہوں نے اسے قبول کرلیا۔