الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الْبَابُ السَّادِسُ فِي وَفَاتِهِ وَالصَّلَاةِ عَلَيْهِ وَثَنَاءِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ باب: ششم: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی وفات ، ان کی نمازجنازہ اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی طرف سے ان کی مدح سرائی کا بیان
حدیث نمبر: 12234
عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ مُسَجًّى بِثَوْبِهِ قَدْ قَضَى نَحْبَهُ فَجَاءَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَكَشَفَ الثَّوْبَ عَنْ وَجْهِهِ ثُمَّ قَالَ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ أَبَا حَفْصٍ فَوَاللَّهِ مَا بَقِيَ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَلْقَى اللَّهَ تَعَالَى بِصَحِيفَتِهِ مِنْكَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو حجیفہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، ان پر ایک کپڑا ڈال کر انہیں ڈھانپا گیا، وہ وفات پا چکے تھے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے، انہوں نے آپ کے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور کہا: اے ابو حفص! آپ پر اللہ کی رحمت ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد آپ سے بڑھ کر کوئی آدمی مجھے اتنا محبوب نہیں کہ میں اس جیسا نامہ اعمال لیے ہوئے اللہ تعالیٰ سے جا کر ملوں۔