الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الْبَابُ السَّادِسُ فِي وَفَاتِهِ وَالصَّلَاةِ عَلَيْهِ وَثَنَاءِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ باب: ششم: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی وفات ، ان کی نمازجنازہ اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی طرف سے ان کی مدح سرائی کا بیان
حدیث نمبر: 12233
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وُضِعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَيْنَ الْمِنْبَرِ وَالْقَبْرِ فَجَاءَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَتَّى قَامَ بَيْنَ يَدَيِ الصُّفُوفِ فَقَالَ هُوَ هَذَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ مَا مِنْ خَلْقِ اللَّهِ تَعَالَى أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَلْقَاهُ بِصَحِيفَتِهِ بَعْدَ صَحِيفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَذَا الْمُسَجَّى عَلَيْهِ ثَوْبُهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو منبراور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر کے درمیان لا کر رکھا گیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ آکر صفوں کے آگے کھڑ ے ہوگئے اور انہوں نے تین بار کہا: آپ پر اللہ کی رحمت ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں اس ڈھانپے ہوئے آدمی کے علاوہ کوئی ایسا بشر نہیں ہے کہ میں اس جیسے نامہ اعمال کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے پاس جانا پسند کروں۔