حدیث نمبر: 12221
عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَطَبَ النَّاسَ بِالْجَابِيَةِ فَقَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ مَقَامِي فِيكُمْ فَقَالَ ”اسْتَوْصُوا بِأَصْحَابِي خَيْرًا ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ يَفْشُو الْكَذِبُ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَبْتَدِئُ بِالشَّهَادَةِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا فَمَنْ أَرَادَ مِنْكُمْ بَحْبَحَةَ الْجَنَّةِ فَلْيَلْزَمِ الْجَمَاعَةَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ مَعَ الْوَاحِدِ وَهُوَ مِنَ الِاثْنَيْنِ أَبْعَدُ لَا يَخْلُوَنَّ أَحَدُكُمْ بِامْرَأَةٍ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ ثَالِثُهُمَا وَمَنْ سَرَّتْهُ حَسَنَتُهُ وَسَاءَتْهُ سَيِّئَتُهُ فَهُوَ مُؤْمِنٌ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جابیہ کے مقام پر خطاب کیا اور اس میں کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان اسی طرح کھڑے ہوئے تھے، جیسے میں تمہارے درمیان کھڑ اہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اپنے صحابہ سے اچھا سلوک کرنے کی تاکید کرتا ہوں، اور ان کے بعد آنے والے لوگوں اور پھر اُن لوگوں کے بعد آنے والوں کے ساتھ بھی حسن سلوک کرنے کی تمہیں وصیت کرتا ہوں، ان زمانوں کے بعد جھوٹ عام ہو جائے گا، یہاں تک کہ آدمی گواہی کا مطالبہ کیے جانے سے پہلے گواہی دینا شروع کر دے گا، پس تم میں سے جو آدمی جنت کے وسط میں مقام بنانا چاہے، وہ جماعت کے ساتھ مل کر رہے، کیونکہ اکیلے آدمی کے ساتھ شیطان ہوتا ہے اور اگر دو آدمی اکٹھے ہوں تو وہ ان سے زیادہ دور رہتا ہے اور تم میں سے کوئی آدمی کسی عورت کے ساتھ علیحدہ نہ ہو، کیونکہ ان میں تیسرا شیطان ہو گا، نیز جب کسی آدمی کو اس کی نیکی اچھی لگے اور برائی بری لگے تو وہ مؤمن ہو گا۔

وضاحت:
فوائد: … حدیث ِ مبارکہ میں پانچ اہم مسائل کی طرف توجہ دلائی گئی ہے: ۱۔ صحابہ کرام، تابعینِ عظام اور تبع تابعین کے ساتھ حسن سلوک والا معاملہ کرنا، قرونِ اولی کی ان ہستیوں نے اسلام کو سہارا دیا، بعد میں آنے والا کبھی بھی ان کے احسانات کو فراموش نہیں کر سکتا، لیکن تعجب اس بات پر ہے عصرِ حاضر میں بعض تنظیمیں صحابہ کرام کی حسنات کو نظر انداز کر کے ان کے بشری تقاضوں کو ہوا دے کر ان پر طعن و تشنیع اور سب و شتم کرتے ہیں۔ ہمیں سمجھ نہیں آتی کہ ان لوگوں کی غرض و غایت کیا ہے؟ اوریہ کیا چاہتے ہیں؟ ہم یہ دعوی نہیں کرتے کہ صحابہ کرام معصوم تھے،لیکن اتنا ضرور کہتے ہیں کہ ان کا قول و کردار اعلی تھا، وہ سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست و بازو بنے اور اسلام کو دنیا کے اطراف و اکناف میں پھیلانے کا سبب بنے۔ لہٰذا ہمیں چاہئے کہ ہم ان کے مثبت پہلوؤں کو سامنے رکھ کر اپنے آپ کو ان کا ممنون سمجھیں۔
۲۔ قسم اٹھانے اور گواہی دینے کا مطلب جھوٹ کا عام ہونا ہے، وگرنہ سچے گواہوںکی نفی نہیں کی جا رہی۔ آج کل بھی کچہریوں اور عدالتوں میں ایجینٹوں کی طرح کچھ لوگ تین چار سو روپیہ مروڑ کر جھوٹی گواہی دینے کے لیے گردش کر رہے ہوتے ہیں۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جھوٹ برائیوں کی طرف اور برائیاں جہنم کی طرف لے کر جاتی ہیں اور بندہ جھوٹ بولتا رہتا ہے، حتی کہ اسے اللہ تعالیٰ کے ہاں کذاب اور جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔ (بخاری، مسلم)
۳۔ جماعت کو لازم پکڑنا کیونکہ اکیلے آدمی کو شیطان آسانی سے گمراہ کر سکتا ہے۔
۴۔ کوئی مرد کسی غیر محرم عورت کے ساتھ خلوت اختیار نہیں کرسکتا۔ آجکل بے پردگی اور غیر محرم مردو زن کا میل ملاپ عام ہے، کوئی اسے محبت کااور کوئی رشتہ داری کا تقاضا سمجھتا ہے۔ بہرحال شریعت کا مزاج ان امور کی قطعی طور پر اجازت نہیں دیتا۔
۵۔ نیکی سے مزاج میں خوشی کی لہر دوڑنا اور برائی سے تنگی محسوس کرنا ایمان و ایقان کی بہت بڑی علامت ہے، جس آدمی کو نیکی کر کے خوشی ہو تی ہو نہ برائی کر کے غمی، تو اسے سمجھ لینا چاہئے کہ اس کا ایمان زنگ آلود ہو چکا ہے، وہ استغفار کرے اور اپنے ایمان کی تجدید کرے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12221
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، اخرجه الترمذي: 2165 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 114 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 114»