الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الْفَضْلُ الْخَامِسُ فِي هَيْبَتِهِ وَوَقَارِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: فصل پنجم: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی ہیبت اور وقار کا بیان
حدیث نمبر: 12212
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَدْخُلُ بَيْتِي الَّذِي دُفِنَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي فَأَضَعُ ثَوْبِي فَأَقُولُ إِنَّمَا هُوَ زَوْجِي وَأَبِي فَلَمَّا دُفِنَ عُمَرُ مَعَهُمْ فَوَاللَّهِ مَا دَخَلْتُ إِلَّا وَأَنَا مَشْدُودَةٌ عَلَيَّ ثِيَابِي حَيَاءً مِنْ عُمَرَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں اس گھر میں داخل ہوتی رہتی تھی، جس میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور میرے والد مدفون تھے، میں وہاں کپڑا بھی اتار لیتی تھی اور کہتی تھی کہ ایک میرا شوہر ہیں اور ایک میرے والد، لیکن اللہ کی قسم! جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ دفن کیے گئے تو میں ان سے حیا کرتے ہوئے اپنے اوپر کپڑے لپیٹ کر داخل ہوتی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … بعض لوگوں نے اس حدیث سے یہ استدلال کشید کرنے کی کوشش کی ہے کہ اللہ کے اولیاء قبر سے بھی دیکھتے ہیں، تبھی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دفن ہونے کے بعد پردہ کرتی تھیں۔
ایسے لوگوں سے گزارش ہے کہ جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ چار پانچ من مٹی سے دیکھ سکتے تھے، تو ان کے سامنے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا وہ کپڑا کیا آڑ کرے گا، جس سے وہ پردہ کرتی تھیں، اس استدلال کا معنی یہ ہوا کہ اللہ کے ولی مٹی سے تو دیکھ سکتے ہیں، لیکن کپڑے سے نہیں دیکھ سکتے۔ سبحان اللہ!
یہ اس موضوع کی تفصیل کا مقام نہیں ہے۔ یہ سیدہ کا ایک طبعی معاملہ اور ان کے ذہن میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کامقام و مرتبہ تھا۔
ایسے لوگوں سے گزارش ہے کہ جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ چار پانچ من مٹی سے دیکھ سکتے تھے، تو ان کے سامنے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا وہ کپڑا کیا آڑ کرے گا، جس سے وہ پردہ کرتی تھیں، اس استدلال کا معنی یہ ہوا کہ اللہ کے ولی مٹی سے تو دیکھ سکتے ہیں، لیکن کپڑے سے نہیں دیکھ سکتے۔ سبحان اللہ!
یہ اس موضوع کی تفصیل کا مقام نہیں ہے۔ یہ سیدہ کا ایک طبعی معاملہ اور ان کے ذہن میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کامقام و مرتبہ تھا۔