حدیث نمبر: 12211
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ الْأَسْوَدَ بْنَ سَرِيعٍ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ حَمِدْتُ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِمَحَامِدَ وَمَدَحٍ وَإِيَّاكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَمَا إِنَّ رَبَّكَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يُحِبُّ الْمَدْحَ هَاتِ مَا امْتَدَحْتَ بِهِ رَبَّكَ“ قَالَ فَجَعَلْتُ أُنْشِدُهُ فَجَاءَ رَجُلٌ فَاسْتَأْذَنَ أَدْلَمُ أَصْلَعُ أَعْسَرُ أَيْسَرُ قَالَ فَاسْتَنْصَتَنِي لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَوَصَفَ لَنَا أَبُو سَلَمَةَ كَيْفَ اسْتَنْصَتَهُ قَالَ كَمَا صَنَعَ بِالْهِرِّ فَدَخَلَ الرَّجُلُ فَتَكَلَّمَ سَاعَةً ثُمَّ خَرَجَ ثُمَّ أَخَذْتُ أُنْشِدُهُ أَيْضًا ثُمَّ رَجَعَ بَعْدُ فَاسْتَنْصَتَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَوَصَفَهُ أَيْضًا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ ذَا الَّذِي اسْتَنْصَتَّنِي لَهُ فَقَالَ ”هَذَا رَجُلٌ لَا يُحِبُّ الْبَاطِلَ هَذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا اسودبن سریع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اپنے رب کی تعریفات بیان کی ہیں اور آپ کی بھی مدح سرائی کی ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یاد رکھو! تمہارا ربّ حمد کو پسند کرتا ہے، تم نے اپنے رب کی جو مدح کی ہے، وہ ذرا سناؤ تو سہی۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنانے لگا، اتنے میں ایک سیاہ فام، دراز قد، گنجا اور اپنے دائیں اور بائیں دونوں ہاتھوں سے کام کرنے والا ایک آدمی آگیا۔ اس کے آنے پررسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے چپ کر ادیا۔ ابو سلمہ نے ہمارے سامنے ان کے چپ کرانے کی کیفیت بھی بیان کی کہ جیسے بلی کو آوازدی جاتی ہے، پس وہ آدمی آیا، اس نے کچھ دیر گفتگو کی اور اس کے بعد وہ چلا گیا، اس کے جانے کے بعد میں دوبارہ اپنا کلام پیش کرنے لگا، وہ آدمی دوبارہ آگیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے پھر خاموش کر ادیا۔ ابو سلمہ نے دوبارہ خاموش کرانے کی کیفیت کو دہرایا، دو تین مرتبہ ایسے ہی ہوا۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! یہ کون آدمی ہے جس کی آمد پر آپ نے مجھے خاموش کرادیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ آدمی ہے جو لغو کو پسند نہیں کرتا، یہ عمر بن خطاب ہیں۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں مذکورہ جملہ أَمَا إِنَّ رَبَّکَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی یُحِبُّ الْمَدْحَ شواہد کی بنا پر صحیح ہے۔ اکثر لوگ دائیں ہاتھ سے کام کرتے ہیں، جبکہ بعض لوگ بائیں ہاتھ سے کام کرتے ہیں، اس روایت میں دونوں ہاتھوں سے مراد یہ ہے کہ دونوں ہاتھوں سے کام کرنے کی صلاحیت تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12211
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان، وذكر ابن منده انه لا يصح سماع عبد الرحمن ابن ابي بكرة من الاسود ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15590 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15675»