الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الفَصْلُ الرَّابِعُ فِي مَوَافَقَانِهِ لِلْحَقِّ أَوْ كَوْنِهِ مِنَ الْمُلْهَمِينَ باب: فصل چہارم: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی حق کی موافقات یا آپ کا الہام والے لوگوں میں سے ہونا
عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَضَلَ النَّاسَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ بِأَرْبَعٍ بِذِكْرِ الْأَسْرَى يَوْمَ بَدْرٍ أَمَرَ بِقَتْلِهِمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ} [الأنفال: 68] وَبِذِكْرِهِ الْحِجَابَ أَمَرَ نِسَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحْتَجِبْنَ فَقَالَتْ لَهُ زَيْنَبُ وَإِنَّكَ عَلَيْنَا يَا ابْنَ الْخَطَّابِ وَالْوَحْيُ يَنْزِلُ فِي بُيُوتِنَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ} [الأحزاب: 53] وَبِدَعْوَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَهُ ”اللَّهُمَّ أَيِّدِ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ“ وَبِرَأْيِهِ فِي أَبِي بَكْرٍ كَانَ أَوَّلَ النَّاسِ بَايَعَهُسیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ چار امور میں لوگوں پر فضیلت لے گئے، انہو ں نے بدر کے قیدیوں کو قتل کرنے کا مشورہ دیا تھا، اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی : (لَوْلَا کِتَابٌ مِنَ اللہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیمٌ) ..... اگر اللہ کا فیصلہ نہ ہوتا تو تم نے جو کچھ ان قیدیوں سے بطور فدیہ لیا ، اس کے سبب تم پر بہت سخت عذاب آتا ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ازواج مطہرات کے بارے میں کہا کہ انہیں پردہ کرنا چاہیے ، سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا : اے ابن خطاب ! تم تو ہم پر مسلط ہو گئے ہو ، حالانکہ وحی تو ہمارے گھروں میں نازل ہوتی ہے ، لیکن اللہ تعالیٰ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی موافقت میں پردے سے متعلقہ یہ آیت نازل فرما دی : (وَإِذَا سَأَلْتُمُوھُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوھُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابِ) ..... اور اے ایمان والو ! تم جب ان امہات المومنین سے کوئی چیز مانگو تو پردے کی اوٹ میں مانگا کرو ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دوسرے لوگوں پر اس لحاظ سے بھی فضیلت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے حق میں یہ دعا کی تھی : اے اللہ ! عمر کے ذریعے اسلام کو غلبہ عطا فرما ۔ نیز سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہی نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنائے جانے کی رائے دی تھی اور انہوں نے ہی سب سے پہلے ان کی بیعت کی تھی ۔
اس فیصلے کے بعد جو آیات نازل ہوئیں، ان سے پتہ چلتا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی رائے زیادہ بہتر تھی، یعنی بدر کے قیدیوں کو قتل کر دینا چاہیے تھا۔ مزید دیکھیں حدیث نمبر (۸۶۱۲) اور اس کے بعد والی حدیث۔