حدیث نمبر: 12209
عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَضَلَ النَّاسَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ بِأَرْبَعٍ بِذِكْرِ الْأَسْرَى يَوْمَ بَدْرٍ أَمَرَ بِقَتْلِهِمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ} [الأنفال: 68] وَبِذِكْرِهِ الْحِجَابَ أَمَرَ نِسَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحْتَجِبْنَ فَقَالَتْ لَهُ زَيْنَبُ وَإِنَّكَ عَلَيْنَا يَا ابْنَ الْخَطَّابِ وَالْوَحْيُ يَنْزِلُ فِي بُيُوتِنَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ} [الأحزاب: 53] وَبِدَعْوَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَهُ ”اللَّهُمَّ أَيِّدِ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ“ وَبِرَأْيِهِ فِي أَبِي بَكْرٍ كَانَ أَوَّلَ النَّاسِ بَايَعَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ چار امور میں لوگوں پر فضیلت لے گئے، انہو ں نے بدر کے قیدیوں کو قتل کرنے کا مشورہ دیا تھا، اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی : (لَوْلَا کِتَابٌ مِنَ اللہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیمٌ) ..... اگر اللہ کا فیصلہ نہ ہوتا تو تم نے جو کچھ ان قیدیوں سے بطور فدیہ لیا ، اس کے سبب تم پر بہت سخت عذاب آتا ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ازواج مطہرات کے بارے میں کہا کہ انہیں پردہ کرنا چاہیے ، سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا : اے ابن خطاب ! تم تو ہم پر مسلط ہو گئے ہو ، حالانکہ وحی تو ہمارے گھروں میں نازل ہوتی ہے ، لیکن اللہ تعالیٰ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی موافقت میں پردے سے متعلقہ یہ آیت نازل فرما دی : (وَإِذَا سَأَلْتُمُوھُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوھُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابِ) ..... اور اے ایمان والو ! تم جب ان امہات المومنین سے کوئی چیز مانگو تو پردے کی اوٹ میں مانگا کرو ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دوسرے لوگوں پر اس لحاظ سے بھی فضیلت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے حق میں یہ دعا کی تھی : اے اللہ ! عمر کے ذریعے اسلام کو غلبہ عطا فرما ۔ نیز سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہی نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنائے جانے کی رائے دی تھی اور انہوں نے ہی سب سے پہلے ان کی بیعت کی تھی ۔

وضاحت:
فوائد: … اس آیت سے پہلے والی آیت یہ تھی: {مَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّکُوْنَ لَہٓ اَسْرٰی حَتّٰی یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا وَاللّٰہُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَۃَ وَاللّٰہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ۔} … کسی نبی کے لیے یہ زیبا نہیں ہے کہ اس کے پاس قیدی ہوں جب تک کہ وہ زمین میں دشمنوں کو اچھی طرح کچل نہ دے۔ تم لوگ دنیا کے فائدے چاہتے ہو، حالانکہ اللہ کے پیشِ نظر آخرت ہے، اور اللہ غالب اور حکیم ہے۔ (سورۂ انفال: ۶۷) جنگ بدر میں ستر کافر مارے گئے اور ستر ہی قیدی بنا لیے گئے، غزوۂ بدر چونکہ کفر و اسلام کا پہلا معرکہ تھا، اس لیے قیدیوں کے بارے میں میں کیاطرز عمل اختیار کیا جائے؟ ان کی بابت احکام پوری طرح واضح نہیں تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشورہ کیا تو جواز کی حد تک تو دونوں صورتیں جائز تھیں کہ قیدیوں کو قتل کر دیا جائے یا فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے، عمر رضی اللہ عنہ کی رائے یہ تھی کہ کفر کی قوت و شوکت توڑنے کے لیے ضروری ہے کہ ان قیدیوں کو قتل کر دیا جائے، کیونکہ یہ کفر اور کافروں کے سرغنے ہیں، جبکہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی رائے یہ تھی کہ فدیہ لے کر ان کو چھوڑ دیا جائے، مزید وضاحت اگلی حدیث میں آ رہی ہے۔
اس فیصلے کے بعد جو آیات نازل ہوئیں، ان سے پتہ چلتا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی رائے زیادہ بہتر تھی، یعنی بدر کے قیدیوں کو قتل کر دینا چاہیے تھا۔ مزید دیکھیں حدیث نمبر (۸۶۱۲) اور اس کے بعد والی حدیث۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12209
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، اخرجه البزار: 2505، والطيالسي: 250، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4362 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4362»