الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الفَصْلُ الرَّابِعُ فِي مَوَافَقَانِهِ لِلْحَقِّ أَوْ كَوْنِهِ مِنَ الْمُلْهَمِينَ باب: فصل چہارم: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی حق کی موافقات یا آپ کا الہام والے لوگوں میں سے ہونا
حدیث نمبر: 12207
عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَعَلَ الْحَقَّ عَلَى قَلْبِ عُمَرَ وَلِسَانِهِ“ قَالَ وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ مَا نَزَلَ بِالنَّاسِ أَمْرٌ قَطُّ فَقَالُوا فِيهِ وَقَالَ فِيهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَوْ قَالَ عُمَرُ إِلَّا نَزَلَ الْقُرْآنُ عَلَى نَحْوٍ مِمَّا قَالَ عُمَرُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے عمر رضی اللہ عنہ کے دل و زبان پر حق جاری کر دیا ہے۔ جب لوگوں کو کوئی معاملہ پیش آتا اور مختلف افراد اپنی اپنی رائے دیتے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی رائے دیتے تو قرآن مجید سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی رائے کی موافقت میں نازل ہوتا تھا۔