حدیث نمبر: 12203
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ ذَاتَ يَوْمٍ ”مَنْ شَهِدَ مِنْكُمْ جَنَازَةً“ قَالَ عُمَرُ أَنَا قَالَ ”مَنْ عَادَ مِنْكُمْ مَرِيضًا“ قَالَ عُمَرُ أَنَا قَالَ ”مَنْ تَصَدَّقَ“ قَالَ عُمَرُ أَنَا قَالَ ”مَنْ أَصْبَحَ صَائِمًا“ قَالَ عُمَرُ أَنَا قَالَ ”وَجَبَتْ وَجَبَتْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن اپنے صحابہ سے فرمایا: تم میں سے کس نے آج کسی جنازہ میں شرکت کی ہے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جی میں نے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کس نے آج کسی بیمارکی تیمارداری کی ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جی میں نے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج کسی نے روزہ رکھا ہوا ہے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جی میں نے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت واجب ہوگئی ہے، واقعی واجب ہوگئی ہے۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کی صحیح صورت درج ذیل ہے: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ أَصْبَحَ مِنْکُمُ الْیَوْمَ صَائِمًا؟)) قَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: أَنَا، قَالَ: ((فَمَنْ تَبِعَ مِنْکُمُ الْیَوْمَ جَنَازَۃً۔)) قَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: أَنَا، قَالَ: ((فَمَنْ أَطْعَمَ مِنْکُمُ الْیَوْمَ مِسْکِینًا؟)) قَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: أَنَا، قَالَ: ((فَمَنْ عَادَ مِنْکُمُ الْیَوْمَ مَرِیضًا؟)) قَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: أَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((مَا اجْتَمَعْنَ فِی امْرِئٍ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا آج کس نے روزہ رکھا ہوا ہے؟ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: جی میں نے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج کون میت کے پیچھے چلا (اور اس کی
نمازِ جنازہ ادا کی)؟ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا:جی میں نے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج کس نے مسکین کو کھانا کھلایا؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: جی میں نے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج کس نے مریض کی عیادت کی؟ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: جی میں نے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ امور جس آدمی میں جمع ہوں گے، وہ جنت میں جائے گا۔ (صحیح مسلم: ۱۷۰۷)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12203
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف سلمة بن وردان، اخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 235، والبزار: 1043، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12181 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12205»