حدیث نمبر: 12201
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ النَّاسَ يُعْرَضُونَ وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ مِنْهَا مَا يَبْلُغُ الثَّدْيَ وَمِنْهَا مَا يَبْلُغُ دُونَ ذَلِكَ وَمَرَّ عَلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَجُرُّهُ“ قَالُوا فَمَا أَوَّلْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”الدِّينُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کابیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے خواب میں لوگوں کو دیکھا، وہ میرے سامنے آرہے تھے، انہوں نے قمیصیں پہن رکھی ہیں، کسی کی قمیص اس کی چھاتی تک ہے اور کسی کی اس سے نیچے تک، جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ میرے سامنے سے گزرے تو وہ قمیص (لمبی ہونے کی وجہ سے) زمین پر گھسیٹ رہے تھے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اس کی کیا تعبیر کی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دین۔

وضاحت:
فوائد: … سیدناعمر رضی اللہ عنہ نبوی شہادت کے مطابق دین اسلام سے مکمل طور پر مزین تھے۔ مفہوم یہ ہوا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کا دورانیہ طویل ہو گا، اس میں دین کو سربلندی نصیب ہو گی، ان کی حیات میں اور موت کے بعد ان کی فتوحات کے آثار باقی رہیں گے۔ قمیض کے گھسٹنے کا معنی یہ ہوا کہ ان کی وفات کے بعد ان کے آثارِ جمیلہ اور سننِ حسنہ مسلمانوں میں باقی رہیں گی۔ (تلخیص از مرقاۃ المفاتیح:۱۰/ ۳۹۳)
جبکہ حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے کہا:قمیض کی دین کی صورت میں تعبیر کرنے کی توجیہ یہ ہے کہ قمیض دنیا میں پردے کا سبب بنتی ہے اور دین آخرت میں پردے کا سبب بنے گا اور بندے کو ہر قسم کی مکروہ چیز سے بچائے گا، اس میں اصل تو اللہ تعالیٰ کایہ فرمان ہے: {وَلِبَاسُ التَّقْوٰی ذَالِکَ خَیْرٌ} اور تقویٰ کا لباس، وہ سب سے بہتر ہے۔ (سورۂ اعراف: ۲۶) عرب لوگ فضل اور پاکدامنی کو قمیض سے تعبیر کرتے ہیں، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا: ((اِنَّ اللّٰہَ سَیُلْبِسُکَ قَمِیصًا فَلَا تَخْلَعْہُ۔)) بیشک اللہ تعالیٰ عنقریب تجھے ایک قمیض پہنائے گا، پس تو نے اس کو اتارنا نہیں۔ (مسند احمد، ترمذی، ابن ماجہ) (اس قمیض سے مراد خلافت ہے)۔ (فتح الباری: ۱۲/ ۳۹۶) جبکہ ابن عربی نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے خواب میں نظر آنے والی قمیض کی تعبیر دین کی صورت میںکی، کیونکہ کپڑا بدن کی شرم والے مقامات کو چھپاتا ہے اور دین جہالت کے عیب کو چھپاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12201
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 7008، ومسلم: 2390 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11814 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11836»