حدیث نمبر: 12199
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ أَنِّي أَنْزِعُ عَلَى حَوْضِي أَسْقِي النَّاسَ فَأَتَانِي أَبُو بَكْرٍ فَأَخَذَ الدَّلْوَ مِنْ يَدِي لِيُرَفِّهَ حَتَّى نَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ وَفِي نَزْعِهِ ضَعْفٌ قَالَ فَأَتَانِي ابْنُ الْخَطَّابِ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ فَأَخَذَهَا مِنِّي فَلَمْ يَنْزِعْ رَجُلٌ حَتَّى تَوَلَّى النَّاسُ وَالْحَوْضُ يَتَفَجَّرُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا، میں نے دیکھا کہ میں اپنے حوض پر کھڑا پانی کھینچ کھینچ کر لوگوں کو پلا رہا ہوں، اتنے میں ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے، انہوں نے مجھے راحت دلانے کے لیے میرے ہاتھ سے ڈول لے لیا، انہو ں نے ایک دو ڈول کھینچے، ان کے اس عمل میں کچھ کمزوری تھی، اس کے بعدابن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے ڈول لے لیا، اللہ ان کی مغفرت فرمائے،وہ تو مسلسل کھینچتے رہے، یہاں تک کہ سب لوگ سیراب ہو کر واپس چلے گئے، اور حوض جو ش مارہا تھا۔

وضاحت:
فوائد: … اس خواب کی تعبیر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی بالترتیب خلافت ہے۔ اول الذکر کی کمزوری اور ایک دو ڈول سے مراد یہ ہے کہ وہ زیادہ دیر تک مسلمانوں کی خدمت نہ کر سکیں گے، انکارو ارتداد اور اختلاف و اضطراب جیسے مسائل کھڑے ہو جائیں گے اور جلدی فوت ہو جائیں گے۔ یہ ساری کم و کاست سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوری کر دی، ان کا دورِ خلافت تعظیمِ دین اور اعلائے کلمۃ اللہ کا زمانہ تھا اور شرق و غرب میں پرچم توحید لہرانے لگا۔
غَرْبًا اس بڑے ڈول کو کہتے ہیں جو بھینس یا بیل کی کھال سے بنایا جاتا ہے، اس سے کھیتوں یا باغوں کی آبیاری کرتے ہیں۔
حدیث کے آخری جملے کا معنی یہ ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں اسلام پھیلے گا اور فتوحات اتنی بے شمار ہوں گی کہ لوگ مال و دولت سے سیراب ہو جائیں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12199
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 4664، 7021، 7475، ومسلم: 2392، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8239 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8222»