الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الْفَضْلُ الثَّانِي فِيمَا رَآهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْجَنَّةِ وَذِكْرِ غَيْرَتِهِ باب: فصل: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنت میں سیدناعمر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے جو کچھ دیکھا، اس کا اور ان کی غیرت کا بیان
عَنْ صَالِحٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ حَدَّثَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي فِي الْجَنَّةِ فَإِذَا امْرَأَةٌ تَتَوَضَّأُ إِلَى جَنْبِ قَصْرٍ فَقُلْتُ لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ قَالُوا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَذَكَرْتُ غَيْرَتَكَ فَوَلَّيْتُ مُدْبِرًا“ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حِينَ يَقُولُ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ عِنْدَهُ مَعَ الْقَوْمِ فَبَكَى عُمَرُ حِينَ سَمِعَ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَعَلَيْكَ بِأَبِي أَنْتَ أَغَارُ يَا رَسُولَ اللَّهِسیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا، میں نے خواب میں اپنے آپ کو دیکھا کہ میں جنت میں ہوں، ایک خاتون ایک محل کے پاس وضو کر رہی تھی، میں نے پوچھا کہ یہ محل کس کا ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ہے۔ عمر! (میں نے اس کے اندر جانا چاہا لیکن) مجھے تمہاری غیرت یاد آ گئی، پس میں واپس پلٹ آیا۔ جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ بات ارشاد فرما رہے تھے تو اس وقت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی لوگوں کے ساتھ آپ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، انہو ں نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ بات سنی تو رونے لگ گئے اور کہا: اللہ کے رسول! میرا والد آپ پر قربان جائے، کیا میں آپ پر غیرت کھا سکتا ہوں؟