حدیث نمبر: 12194
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”رَأَيْتُنِي دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا أَنَا بِالرُّمَيْصَاءِ امْرَأَةِ أَبِي طَلْحَةَ“ قَالَ ”وَسَمِعْتُ خَشْفًا أَمَامِي فَقُلْتُ مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ قَالَ هَذَا بِلَالٌ قَالَ وَرَأَيْتُ قَصْرًا أَبْيَضَ بِفِنَائِهِ جَارِيَةٌ قَالَ قُلْتُ لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ قَالَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَأَرَدْتُ أَنْ أَدْخُلَ فَأَنْظُرَ إِلَيْهِ قَالَ فَذَكَرْتُ غَيْرَتَكَ“ فَقَالَ عُمَرُ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَعَلَيْكَ أَغَارُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں جنت کے اندر گیا ہوں اور وہاں میں نے اپنے سامنے ابو طلحہ کی اہلیہ رمیصاء کو دیکھا ، پھر میں نے اپنے سامنے ایک آہٹ سنی اور کہا : اے جبریل ! یہ کون ہے ؟ انہوں نے کہا : یہ بلال ہیں ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اور میں نے ایک سفید محل دیکھا ، جس کے صحن میں ایک نوجوان لڑکی موجود تھی ۔ میں نے جبریل سے پوچھا : یہ محل کس کا ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ یہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ہے ، میں نے اس کے اندر جا کر اسے دیکھنے کا ارادہ تو کیا ، لیکن مجھے عمر تمہاری غیرت کا خیال آ گیا ۔ یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں ، کیا میں آپ پر غیرت کھا سکتا ہوں ؟

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12194
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 3679، ومسلم: 2457 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15002 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15066»