حدیث نمبر: 12192
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”بَيْنَمَا أَنَا أَسِيرُ فِي الْجَنَّةِ فَإِذَا أَنَا بِقَصْرٍ فَقُلْتُ لِمَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ وَرَجَوْتُ أَنْ يَكُونَ لِي قَالَ قَالَ لِعُمَرَ قَالَ ثُمَّ سِرْتُ سَاعَةً فَإِذَا أَنَا بِقَصْرٍ خَيْرٍ مِنَ الْقَصْرِ الْأَوَّلِ قَالَ فَقُلْتُ لِمَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ وَرَجَوْتُ أَنْ يَكُونَ لِي قَالَ قَالَ لِعُمَرَ وَإِنَّ فِيهِ لَمِنَ الْحُورِ الْعِينِ يَا أَبَا حَفْصٍ وَمَا مَنَعَنِي أَنْ أَدْخُلَهُ إِلَّا غَيْرَتُكَ“ قَالَ فَاغْرَوْرَقَتْ عَيْنَا عُمَرَ ثُمَّ قَالَ أَمَّا عَلَيْكَ فَلَمْ أَكُنْ لِأَغَارَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں جنت میں چلا جارہا تھا کہ مجھے ایک محل دکھائی دیا، میں نے کہا اے جبریل! یہ کس کا ہے؟ جبکہ مجھے امید تھی کہ یہ میرا ہوگا، انھوں نے کہا: یہ عمر کا ہے، پھر میں مزید کچھ دیر چلا تو پہلے سے زیادہ خوبصورت محل نظر آیا، میں نے کہا: جبریل! یہ کس کا ہے؟ جبکہ مجھے توقع تھی کہ وہ میرا ہوگا، انہو ں نے بتلایا کہ یہ عمر رضی اللہ عنہ کا ہے اور اس میں فراخ چشم حوریں بھی ہیں، اے عمر! اگر تمہاری غیرت مانع نہ ہوتی تو میں اس کے اندر چلا جاتا۔ یہ سن کر عمر رضی اللہ عنہ کی آنکھیں اشک بار ہو گئیں اور انہو ں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ پر تو غیرت نہیں کھا سکتا۔

وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ کی غیرت، شدت اور حدّت کا خیال رکھا، جب کہ ان کے جواب کا یہ مقصد تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو آپ کی وجہ سے رفعت عطا کی ہے اور آپ کے ذریعے ہدایت سے نوازا ہے، بھلا وہ آپ پر کیسے غیرت کر سکتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12192
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13883»